وزارت انسانی حقوق کی جانب سےجینڈر سینسیٹیو رپورٹنگ پر صحافیوں کے لئے ایک آگاہی ورکشاپ کا انعقاد

اسلام آباد(سی این پی) وزارت انسانی حقوق نے صحافیوں (بیٹ رپورٹرز) کے لئے انسانی حقوق اور صنفی طور پر حساس معاملات کی رپورٹنگ پر حساسیت اور شعور بیدار کرنے کے لئے وزارت میں آج ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں وزیر برائےانسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، شفقت منیر، سینئر صحافی، ڈائریکٹر جنرل (انٹرنیشنل کوآپریشن) اور وزارت کے دیگر افسران اور صحافیوں نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق نے ورکشاپ میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملات کو رپورٹ کرتے ہوئے فنِ صحافت کو بطریقہ احسن بروے کار لانا چاہئے کیونکہ انسانی حقوق کے موضوع دیگر تمام سماجی موضوعات کا مرکز ہیں لیکن متوازن رپورٹنگ کے لئے معیاری طریقہ کار اور قواعد کو اس طرح کی کہانیوں کا احاطہ کرنے کے لئے اکثر اوقات نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق کا فریضہ بین الاقوامی میثاق اور معاہدوں سے نمٹنا ہے جن میں جی ایس پی + اسٹیٹس کے تحت وعدے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان معاہدوں کو گورننس میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اور وزارت انسانی حقوق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لئے حکومت پاکستان کےلی اہم پوسٹ کا کردار ادا کر رہی ہے۔
صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت متعدد مضامین کی تحلیل کے بعد ابھی بہت سی رکاوٹیں باقی ہیں جوصوبوں کے ساتھ خاص طور پر انسانی حقوق کے مسائل سے نمٹنے کے لئے مؤثر تعاون کی راہ میں حائل ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی، جو لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ 2020 کے تحت قائم ہے، پاکستان بھر میں ضرورت مند اور مستحق افراد کو بلامعاوضہ معاونت فراہم کررہی ہے۔ اس کے علاوہ وزارت انسانی حقوق یو این ڈی پی کی مدد سے انسانی حقوق کے امور کو زیادہ موثر انداز میں حل کرنے کے لئے ہیومن رائٹس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کرنے پر بھی مستقل طور پر کام کر رہی ہے اور ساتھ ہی وزارت چائلڈ لیبر سروے کرانے کا بھی اہتمام کر رہی ہے جو بیس سال سے زائد کے طویل عرصہ میں بھی ممکن نہیں ہو سکا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام کو تعلیم دینےاور ذہن سازی کے لیے ماس میڈیا اکیڈمیا اور رائے عامہ کے رہنما واحد حل ہیں جن سے سیالکوٹ موب لنچنگ جیسے واقعات سے مستقبل میں بچاجا سکتا ہے۔ آخر میں، انہوں نے فالو اپ ورکشاپس کے لئے شرکاء کی طرف سے تجاویز اور آراء کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ رپورٹنگ میں سنسنی خیزی نے زیر سماعت مقدمات پر بھی منفی اثر ڈالا اور سوشل میڈیا نے ان دنوں قوانین اور آزادی کے درمیان لکیر کھینچنے کو مزید مشکل بنا دیا ہے ؛ لہذا، معاشرے میں مظالم اور بربریت کی اطلاع دیتے ہوئے رپورٹرز کو کافی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں