ترقی یافتہ دنیا میں پاکستان ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہیں ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

نٹ شیل گروپ پاکستان کے زیراہتمام ”دی فیوچر سمٹ“ کے چھٹا ایڈیشن کراچی میں ختم ہوگیا۔ رواں سال کے سمٹ کا عنوان ”Prepare for Disruption” ہے، جس کا مقصد مقامی اور عالمی سطح کے چیلنجز کی موجودگی میں جدت اور ٹیکنالوجی کی مدد سے کاروباری مواقع تلاش کرنا ہے۔ سمٹ میں 20 سے زائد غیرملکی اور 35 سے زائد ملکی اسپیکرز نے شرکت کی۔سمٹ کے آخری خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے توانائی مصدق ملک کا دی فیوچر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زندگی میں disruptionاہم اور مستقل ہے، تاہم مستقبل میں کیا ہوگا اس کا تصورنہیں کیا جاسکتا۔میں disruptionسے نہیں ڈرتا،لیکن مجھے جس چیز کی فکر ہے وہ نامعلوم ہے۔اب ہوائی جہازوں کے ڈھانچوں کی تھری ڈی پرنٹنگ ہوگی۔اب پیداوار ی صنعتوں کو خلامیں لے جانے کی بات ہورہی ہے۔دنیا اس وقت مشکل ہوگی جب تمام انسانوں کی صلاحیت ایک ہوگی اور سب اعلی ترین صلاحیتوں کے مالک ہوں۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقت ہے۔ پاکستان کا دنیا میں کاربن کے اخراج میں حصہ زیرو ہیں لیکن ہمیں دوسروں کے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑرہاہے۔ابھی چند سال پہلے ہمیں بتایا گیا کہ کوئلے کا استعمال نقصان دہ ہے، لیکن پھر کوئلے کا ستعمال صحیح ہوگیا۔ جرمنی نے کوئلے کی کانیں دوبارہ کھول دی ہیں ور کوئلے کے پلانٹ سے توانائی پیدا کی جارہی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں امیر طبقہ غریبوں کا حق مار رہا ہے، لیکن ا ب اس سلسلے کو ختم ہونا چاہیے۔

پاکستانی معیشت اورآگے بڑھنے کا راستہ کے موضوع پرچیئرپرسن پاکستان اسٹاک ایکسچینج، ایس ایس جی سی اور کاراندازڈاکٹر شمشا اختر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معاشی بحران کی بڑی وجہ سیاسی تبدیلیاں ہیں۔ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے مستقل مزاجی سے پالیسیوں پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے۔پالیسی میں ردوبدل عدم تسلسل کا باعث بنتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آتی ہے۔ اس وقت ہمیں بیرونی ادائیگیوں کے مسائل کا سامنا ہے۔ گزشتہ سال سے زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ نئے قرض لے کر پرانے قرضوں کا الزام پچھلی حکومت پر ڈالنے کاکھیل ختم ہونا چاہیے۔ ملک کے پیداواری شعبے کو چھانٹیوں اور مہنگے ایندھن نے بٹھا دیا ہے۔اس وقت ملک میں تاریخی مہنگائی ہے، جس سے عوام سے معاشی اور سماجی فوائد چھن گئے ہیں۔ جب تک ملک میں معاشی اصلاحات نہیں کی جاتیں تب تک ٹیکنالوجی کا کردار محدود رہے گا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ کیپ اس وقت اپنی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

ڈائریکٹرنٹ شیل کمیونیکیشنز، چیئرمین پرو پاکستانی، شریک بانی کے کیپ وینچر اور سی ای او انٹریکٹو یو اے ای عثمان یوسف نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی میں کام کرنے والے 5 بڑے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان میں وژنری قیادت کی قدر اور نوجوان نسل میں آگے بڑھنے کی لگن بہت زیادہ ہے۔ سی ای او کوائنز ٹیلیگرام، پبلک اسپیکر، فارچیون میڈیا جرنلسٹ انا ٹوٹوواکا کہنا تھا موجودہ دور میں ڈیجیٹلائزیشن کی بہت اہمیت ہے، تاہم دنیا میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پاس کوئی ڈیجیٹل چیز نہیں ہے، اس لیے چیلنجز کی نشاندہی کرنا اورصارف کے موافق سلوشنز تلاش کرنا ضروری ہے۔ سی ای او یالا لمیٹڈ اور پارٹنر ایروورس ڈیرک ہوگن کیمپ نے کہا کہ پاکستان میں Disruptionکی صلاحیت ہے۔ڈیجیٹل سے آراستہ نوجوان نسل پاکستان کا سب سے بڑا وسیلہ ہے۔میں پاکستان پر یقین رکھتا ہوں،یہاں بہت مواقع ہیں۔مشیر برائے انسانی وسائل متحدہ عرب امارات سعید محمد الحبسی کے مطابق سعودی عرب نے صحت کے شعبے کو ڈیجیٹلائزیشن کی مدد سے تبدیل کر دیا ہے۔ سروسز، ایپلی کیشنز اور عوام کے قابل استعمال ٹیکنالوجی ہی مستقبل ہے۔ ڈیجیٹل عوامی خدمات کو دنیا بھر میں اپنانے کی ضرورت ہے۔

چیف ٹیکنالوجی اینڈ آپریشنز آفیسر مشرق وسطیٰ اور افریقہ، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک محمد عبدالرازق نے کہا کہ آج کے دور میں بینکاری کی تمام سہولتیں صارف کے ہاتھ میں ہیں۔ ڈیجیٹل بینکنگ کو انٹرنیٹ کی اسپیڈ اور ڈیٹا کی فراہمی کے چیلنجز کا سامنا ہے۔دنیا اب ہائبرڈ زندگی گذار رہی ہے۔ڈیجیٹائزیشن میں شناخت کی چوری، سائبرسکیوریٹی، اعتماد کے مسائل اور ڈیٹا میں ہیرا پھیری جیسے خطرات ہیں۔نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نئے خطرات بھی ہوتے ہیں، لیکن آپ کو خطرے سے نمٹنا آنا چاہیے جو اہم بات ہے۔ریگولیٹر کا کردار صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتاہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسریونٹی فوڈز لمیٹڈ فرخ امین کا کہنا تھا کہ پاکستان غذائی عدم تحفظ کے حوالے سے دنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے،جس کا مطلب یہ ہے کہ 40 فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ حالیہ سیلاب نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے، جس سے پاکستان میں غذائی عدم تحفظ نے جنم لیا ہے۔ پاکستان میں وسیع رقبے پر گندم کی کاشت کے باوجود پیداوار 2.9 میٹرک ٹن ہے، جو اوسط 4.0 میٹرک ٹن سے کہیں زیادہ کم ہے۔ہم ڈیجیٹل تنظیم نو کے ذریعے زرعی شعبے میں مڈل مین کے کردار کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔پرائیویٹ سیکٹر کو زرعی شعبے کو ڈیجیٹل بنانے میں کسانوں کی مدد کرنی چاہیے، یونٹی فوڈز کسان کو بااختیار بنانے کے لیے ڈیجیٹل ایپلی کیشنز بنا رہا ہے۔

صدر اور سی ای او سی ای آر پی اینڈ فیلو جولیس۔رابینووٹز سینٹر فار پبلک پالیسی اینڈ فنانس، پرنسٹن یونیورسٹی معروف اے سعیدکے مطابق پاکستان کوجس طرح کے معاشی بحران کا سامنا ہے، اس طرح کے بحران کا سامنا کئی ممالک کرچکے ہیں۔ ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے لینڈ ٹیکس متعارف کرانا چاہیے۔زمینوں اور جائیدادوں پر ٹیکس بنیادی طور پر بڑے شہروں میں بڑھایا جانا چاہیے۔ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب کسی ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگرپیداوار میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں آمدن بھی بڑھ جاتی ہے۔ کنٹری ڈائریکٹر پاکستان، ورلڈ بینک ناجی بینہسین نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت جدید دنیا میں ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ہم پاکستان میں مختلف فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے رئیل ٹائم سیٹلائٹ ڈیٹا سے مدد لینا چاہتے ہیں۔رئیل سیکٹر میں سرمایہ کاری کی بجائے پیداواری شعبے میں انویسٹمنٹ کی جانی چاہیے۔ پاکستان میں لینڈ ٹیکس لگانا ضروری ہے۔کراچی جیسے بڑے شہرسے بڑے پیمانے پر لینڈ ٹیکس وصول کیا جاسکتا ہے۔بورڈ ممبر انوائس میٹ، یو اے ای محمد ذیشان عابدنے کہا کہ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ تمام نئے اسٹارٹ اَپس کو نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوناچاہیے۔ مختلف شعبوں کے پروفیشنلز اور ریگولیٹری رجیم میں ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنائیں۔

مشیر برائے AI، وزارت برائے انسانی وسائل اور امارت سعید محمد الحبسی کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع تلاش کررہے ہیں۔ سرمایہ کاری کرتے وقت انویسٹرز کی نظر آمدن پر ہوتی ہے۔ کاروبار کے شوقین افراد اپنے سلوشنز پیش کرتے ہیں اور ہم بھی ا نہیں ان کے جدید آئیڈیاز کے لیے سلوشنزفراہم کر سکتے ہیں۔ بانی اور سی ای او انوائس میٹ، یو اے ای محمد سلمان انجم نے کہا کہ مستحکم کاروبار کے لیے بینکوں کو انوائس سسٹم پر اعتماد کرنا پڑے گا۔ چیف ایگزیکٹو آفیسربلاک چین فار آل جمی نگوین نے کہا کہ ٹیکنالوجی ڈرامائی طور پر تبدیل ہوتی ہے۔ disruptionسے گھبرانے کے بجائے ہمیں اسے خوش اسلوبی سے قبول کرنا چاہیے۔ڈائریکٹر بین الاقوامی تعلقات، سینٹر بلاک چین آف کاتالونیاواسیلیسا مارینچوک نے کہا کہ ہم مستقبل اور disruptionکے بارے میں اپنے بچوں کی وجہ سے بات کرتے ہیں، کیوں کہ مستقبل اور ہماری میراث بچوں کے ہاتھ میں ہے۔چھ میں سے ایک شخص کووڈ 19سے قبل مختلف ممالک کا سفر کرتاتھا، لیکن اب ورثے کو دیکھنے کے لیے میٹاورس ہے، تاہم میٹاورس حقیقی دنیا کو تبدیل نہیں کرسکتی، یہ صرف ایک توسیع ہے جو دل لگی کا ایک سامان ہے۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر این بی پی فنڈ ڈاکٹر امجد وحید نے کہا کہ جب پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے تو قومیں ترقی کرتی ہیں۔ ہیڈ آف ریسرچ بزنس ریکارڈرعلی خضرنے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو آئندہ چار سال میں مجموعی طور پر 38 ارب ڈالرزفنانسنگ کی ضرورت ہے، جس کا حصول آسان نہیں۔ سی ایف اے، چیف ایگزیکٹو آفیسر المیزان انویسٹمنٹ مینجمنٹ لمیٹڈ محمد شعیب کا کہنا تھاکہ جب ہم اسلامک فنانسنگ کی بات کرتے ہیں تو پائیداری، ایمان پر مبنی سرمایہ کاری اورای ایس جی کی بات کرتے ہیں۔ گروپ چیف بزنس سلوشن آفیسرپی ٹی سی ایل ضرار ہشام خان نے کہا کہ پاکستان کو ڈسٹوپیا کی جانب لے جانے والے محرکات میں جبر، غذائی قلت، عدم مساوات، بیماریاں، بڑھتی ہوئی آبادی، ماحولیاتی تباہی اور مسلسل نگرانی ہے۔کم زرعی پیداوار،ناخواندگی، مالی اخراجات، معلومات میں تضاد اور ٹیکنالوجی کافرق وہ چند وجوہ ہیں جن کی وجہ سے پاکستان مقابلے کی دوڑ پیچھے رہ جاتاہے۔ کونسل ممبراے سی سی اے، ڈائریکٹرٹیناگا نیشنل برہاد اور ایس پی سیٹیا برہاد، ملائیشیا داتو میرینا ابو طاہرنے کہا کہ 2030 تک ہمیں سرمایہ کاروں، صارفین اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر آئیڈیاز کی ضرورت ہے۔گلوبل ایچ آر بزنس پارٹنربرٹش کونسل تنزیلہ حسین کے مطابق لوگوں کی ذہنیت کو تبدیل کرنے اور کام کی جگہ پرڈی ای آئی کو شامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں میں سرمایہ کاری کی جائے، جو ناممکن نہیں ہے بس اس کے لیے مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔سینئر ڈائریکٹر کمرشل ایس اینڈ پی گلوبل شفقت ایچ شاہ نے کہا کہ Diversity and inclusionتنہائی میں نہیں ہوتی۔ ڈی ای آئی کے لیے آپ کے پاس مخصوص پروگراموں کے ساتھ فریم ورک ہونا بھی ضروری ہے۔ متنوع افرادی قوت، ملین ویمن پروگرام اور جامع ثقافت ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے کیے گئے اقدامات ہیں۔

چیف ایگزیکٹو اسٹریٹجک انگیجمنٹس نٹ شیل گروپ اور چیف آف ایئر اسٹاف پاکستان (2015-2018) ائیر چیف مارشل (ریٹائرڈ) سہیل امان وسطی ایشیائی ملکوں سے تجارت اور انہیں ٹرانزٹ کی سہولت فراہم کرکے ملکی قرضے اتارے جاسکتے ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان میں کسٹم کے نظام بہتر بنانا ہوگا۔ سی پیک میں اچھی سڑکیں صرف کاروں کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں بلکہ اس کا مقصد تجارت ہے۔پاکستان سالانہ دس ارب ڈالرز کا آئل امپورٹ بل برداشت نہیں کرسکتا، اس لیے ضروری ہے کہ ہمیں اپنے وسائل استعمال کریں۔ پاکستان میں 30 سے 33 سال کی آبادی 60 فیصد ہے۔ اس نوجوان آبادی کو مواقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔کامیابی کے لیے پلان اے کے علاوہ بی اور سی بھی ہونا چاہیے۔ خواتین کو جب تعلیم یافتہ اور بااختیار بناتے ہیں تو اس سے پورا خاندان تعلیم یافتہ اور خودمختار ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں