نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست نمٹا دی گئی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل پریس کلب انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست نمٹا دی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ پریس کلب کا تنازعہ اندر حل کریں، عدالت کو ملوث نہ کریں،یہ عدالت پریس کلب الیکشن میں مداخلت نہیں کریگی، اگر صحافی اپنے انتخابات پرامن نہیں کروا سکتے تو یہ سوچنے کی بات ہے،دوران سماعت وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پریس کلب الیکشن میں پولیس نے گنتی ہال پر قبضہ کر لیا، آئی جی سے درخواست کی انکوائری کریں ہم ثبوت دینگے، پولیس نے وحید ڈوگر اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی، اب درخواست گزار کو ہراساں کیا جا رہا ہے، اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس طرح ہراساں کیا جا رہا ہے، وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پولیس کالز کر کے ہراساں کر رہی ہے، کہہ رہے ہیں صلح کر لیں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تو آپ صلح نہ کریں، عدالت ہوا میں تو کچھ نہیں کریگی،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت انوسٹی گیشن میں مداخلت نہیں کر سکتی، درخواست گزار بھی نہیں کر سکتا، عدالت وہ کام نہیں کریگی جو براہ راست نہیں کر سکتی،عدالت پولیس کو ہدایت کر دیتی ہے کہ ہراساں نہ کیا جائے، اس موقع پر شکیل قرار کے وکیل نے درخواست کی کہ درخواست گزار عدالت میں دو منٹ بات کرنا چاہتا ہے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نہیں، اسکی ضرورت نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں