تہران (ویب ڈیسک) ایران کی پاسداران انقلاب نیوی نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کے بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کا انجام تباہی ہوگا ، ایرانی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب نیوی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کا گزرنا ممنوع ہے، جو جہاز ایرانی قوانین کی خلاف ورزی کریں گے، وہ امریکی فوج پر بھروسہ کرنے کی آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں گے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق آج صبح ایک سپر ٹینکر، جو 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل لے کر غیر مجاز راستے سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا، بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گیا ،رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ تیسرا یا چوتھا بڑا واقعہ ہے۔ متحدہ عرب امارات سے منسلک ٹینکر ’ایم ٹی ایس ٹی 3‘ دھماکے کے بعد آبنائے ہرمز میں جل اٹھا جبکہ سعودی ساحل کے قریب دو دیگر ٹینکرز پر بھی حملے ہوئے۔
13 اکتوبر کو ایک کنٹینر شپ بھی اسی علاقے میں ڈوب گیا تھا ، بھارتی وزارت جہاز رانی نے تصدیق کی ہے کہ 15 بھارتی عملے کے ارکان پر مشتمل ایک ٹینکر پر بھی میزائل حملہ ہوا، تاہم عملہ محفوظ رہا۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان سردار محبی نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہونے کا مطلب روزانہ 125 جہازوں اور 2 کروڑ بیرل تیل کی آمدورفت ہے، کیا اب ایسا ہو رہا ہے؟ نہیں، اس لیے آبنائے بند ہے، ان کا کہنا تھا کہ امریکہ رات کے اندھیرے میں ایک آدھ جہاز نکال کر آبنائے کھلی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، حالانکہ یہ اسمگلنگ ہے، آبنائے کا کھلا ہونا نہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شامل ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے ، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ نہ ہٹائی گئی بحری بارودی سرنگوں کے باعث اس راستے پر جہاز رانی غیر محفوظ ہے۔
برطانوی میری ٹائم ادارے کے مطابق حملوں کا نشانہ بننے والے کئی جہاز تجارتی جرمانوں کے خوف سے باضابطہ طور پر مدد کی اپیل بھی نہیں کر رہے ، دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے پس پردہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی حالیہ پیشکش مسترد کر دی ہے۔

