پشاور (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا اظہار کیا گیا ، ذرائع کے مطابق اپیکس کمیٹی اجلاس گورنر ہائوس پشاور میں تین گھنٹے تک جاری رہا، اجلاس میں امن و امان، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزراء احسن اقبال، محسن نقوی موجود تھے ، ذرائع کے مطابق اجلاس میں تحریک انصاف کی سابق حکومت کے غیر سنجیدہ اقدامات پر اظہار تشویش کیا گیا، وفاقی اور صوبائی قیادت نے پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اپپکس کمیٹی اجلاس میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیا گیا، آئی جی پولیس اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی سکیورٹی سے متعلق انتظامات اور سہولیات پر بریفنگ دی ، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، فورسز کے جوانوں اور افسران کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی، مسلح افواج، پولیس اور عوام کئی شہادتوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے صوبائی انتظامیہ کو دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں تعاون کی یقین دہانی کرائی، پولیس، سی ٹی ڈی کو جو سہولیات درکار ہیں، فراہم کریں گے، وفاقی حکومت کی یقین دہانی کرائی ، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے، ہمیں مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا، اللہ سے دعا ہے کہ صوبے میں امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ پشاور سکول کی چھت گرنے سے ایک استانی اور بچوں کی المناک وفات پر بہت غمزدہ ہوں، گورنر کو کہا تھا کہ وہ متاثرہ جگہ کا فوری دورہ کر کے اس سانحے کی مکمل تحقیقات کرائیں، چند برسوں میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کی وجہ سے یہ صوبہ بہت متاثر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چھ برسوں میں جو حالات پید ا کئے گئے اُس کے بعد امن و امان کو بہت نقصان پہنچا، ہماری بہادر افواج اور سکیورٹی اداروں نے بہت قربانیاں دے کر خیبر پختونخوا سمیت پاکستان میں دہشت گردی کا قلع قمع کر دیا تھا، دو ہزار اٹھارہ تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ امن سکیورٹی اداروں سمیت ہماری ماوں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار لوگ شہید اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، خیبرپختونخوا کے کئی سیاسی خاندانوں نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی گھراجڑ گئے، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں مکمل امن قائم ہوا تھا، قیام امن کے بعد پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا، تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا ، جس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا، قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ہماری سکیورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی اور نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی دور میں خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت ، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئےگئے، اس سے بڑی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی مثال اور نہیں ہو سکتی، اسی وجہ سے حالیہ چند برسوں میں دہشت گردی میں پھر اضافہ ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار آسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی، خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبہ ابھی بھی نامکمل ہے، انسداد دہشت گردی محکمے اور پولیس کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، 2010کے این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبوں نے ملکر خیبر پختونخوا کی مدد کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں نے انسداد دہشت گردی کے لئے خیبر پختونخوا کو وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا، صوبوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ہے، تمام وزراء اعلیٰ نے فیصلہ کیا کہ وفاق اور صوبوں کے حصے کے فنڈز میں سے ایک فیصد اضافی خیبر پختونخوا کو دئیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 2010 کے بعد سے خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مد میں آٹھ سو ارب روپے دئیے گئے، افسوس کا مقام ہےکہ دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے مزید ابھر کر سامنے آ گئی، خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کو تربیت اور جدید اسلحہ اور دیگر آلات نہیں دئیے گئے۔

