FIA has registered a case against Go Petroleum for tax evasion worth billions of rupees, including against the CEO and several other individuals. capitalnewspoint.com

ایف آئی اے نے گو پیٹرولیم کے خلاف اربوں روپے کی ٹیکس چوری، سی ای او سمیت متعدد کے خلاف مقدمہ درج

اسلام آباد ( احسان بخاری /سپیشل رپورٹر) ایف ائی اے کا گو پیٹرولیم کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن اربوں روپے کے مبینہ ٹیکس چوری گو پیٹرولیم کے سی ای او متعدد افیسرز مقدمہ میں نامزد اوگرا کے افسران کو تفتیش کے بعد نامزد کیا جائے گا، ایف ائی ار کے مطابق کمپنی پر بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات قواعد کے برعکس فروخت کرنے ریکارڈ میں رد و بدل اور جالی دستے ساتھ استعمال کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ، وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے گو پٹرولیم (M/s Gas & Oil Pakistan Limited) اور متعلقہ افراد کے خلاف مبینہ طور پر کسٹمز قوانین کی خلاف ورزی، پیٹرولیم مصنوعات کے ریکارڈ میں ہیر پھیر اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی متعلقہ دفعات، پاکستان پینل کوڈ کی دفعات اور پریوینشن آف کرپشن ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ FIA کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امجد ارشد بٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا.

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں موجود پیٹرولیم مصنوعات کو مبینہ طور پر بغیر مطلوبہ ایکس بانڈ گڈز ڈیکلریشن (EB GD) اور سرکاری واجبات کی ادائیگی کے منتقل یا فروخت کیا گیا، جس کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

مقدمے میں جن ملزمان کو نامزد کیا گیا ان میں :

خالد ریاض — چیف ایگزیکٹو آفیسر، M/s Gas & Oil Pakistan Limited (GO Petroleum)
فیاض احمد — چیف ایگزیکٹو آفیسر، M/s Terminal One Limited (TOL)
فرحان احمد صدیقی — ٹرمینل منیجر، M/s Terminal One Limited
اناس جاوید — گو پٹرولیم کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤس کے دستخط کنندہ
محمد حسن ہارون — سینئر منیجر، گو پٹرولیم کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤس، محمود کوٹ مظفرگڑھ

ایف آئی آر کے مطابق تحقیقات کے دوران متعلقہ ریکارڈ، کسٹمز دستاویزات اور بانڈڈ اسٹاک کی جانچ کی گئی، جس میں مبینہ تضادات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مزید افراد یا افسران کا کردار تحقیقات کے دوران سامنے آنے پر کارروائی کی جا سکتی ہے، FIA نے کیس کی تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ ملزمان کے خلاف الزامات کی حقیقت کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

اس کے علاوہ، کلکٹریٹس آف کسٹمز اپریزمنٹ (پورٹ محمد بن قاسم، فیصل آباد اور لاہور ایسٹ) کے متعلقہ افسران و اہلکار، جن کے کردار کا تعین دورانِ تفتیش کیا جائے گا، اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کے افسران یا کوئی دیگر افراد، اگر یہ ثابت ہوا کہ انہوں نے جرم میں سہولت فراہم کی، معاونت کی یا سازش میں شریک رہے.

تو انہیں بھی اس مقدمے میں شامل کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کے ممبر آئل کو ایف ائی اے نے مقدمہ ددرف کرنے سے پہلے طلب کیا تھا ، اور دو گھنٹے تک ان سے تفتیش جاری رہی ایف ائی اے زرائع کا کہنا ہے کے اوگرا کے دیگر افسران جن میں چئرمین اوگرا سمیت دیگر افسران کو بھی تفتیش کے بعد مقدمہ میں نامزد کیے جانے کا امکان ہے .

تا ہم ایف ائی اے نے ملزمان جن میں خالد ریاض —چیف ایگزیکٹو آفیسر، M/s Gas & Oil Pakistan Limited (GO Petroleum) ، فیاض احمد — چیف ایگزیکٹو آفیسر، M/s Terminal One Limited (TOL) فرحان احمد صدیقی — ٹرمینل منیجر، M/s Terminal One Limited . ، اناس جاوید — گو پٹرولیم کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤس کے دستخط کنندہ ، محمد حسن ہارون — سینئر منیجر، گو پٹرولیم کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤس، محمود کوٹ مظفرگڑھ شامل ہیں کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں ملزمان گرفتاری کے خوف سے روپوش ہوگئے ہیں .