اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) صدر استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کی زیرِ صدارت پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز کا اجلاس ہوا، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، عام انتخابات، وزیراعظم کے انتخاب اور دیگر اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد استحکام پاکستان پارٹی نے آزاد کشمیر کے عام انتخابات اور وزیراعظم کے انتخاب کو چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے انتخابات کے نتائج مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر میں بدترین دھاندلی کی گئی۔
سردار تنویر الیاس کا کہنا تھا کہ انتخابات میں مبینہ طور پر جعلی بیلٹ پیپرز استعمال کیے گئے اور ووٹوں پر ٹھپے لگائے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابات میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
آئی پی پی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ آزاد کشمیر کے مبینہ دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا۔ پارٹی نے عام انتخابات کے نتائج کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔
اجلاس میں آئی پی پی کے سیکریٹری جنرل انصر ابدالی نے مخصوص نشستوں اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر ہونے والے انتخابات کو مبینہ طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں الیکٹورل کالج مکمل نہیں ہے۔
شرکاء اجلاس نے مؤقف اختیار کیا کہ پونچھ ڈویژن میں انتخابات کے بغیر آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا انتخاب آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ضلع سدھنوتی اور ضلع راولاکوٹ تحریک آزادی کشمیر کے اہم مراکز ہیں، اس لیے ان دونوں اضلاع کو نظرانداز کرکے حکومت تشکیل دینا درست نہیں ، اجلاس کے شرکاء نے سوال اٹھایا کہ دونوں اہم اضلاع کی سیاسی نمائندگی کو نظرانداز کرکے کیا پیغام دیا جارہا ہے۔
آئی پی پی نے آزاد کشمیر میں صدارتی انتخاب کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ صدر آزاد کشمیر کی وفات کی صورت میں 30 دن کے اندر صدارتی انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے، جبکہ صدارتی انتخابات نہ کروا کر آئین سے انحراف کیا جارہا ہے ، اجلاس میں وفاقی وزیر خواجہ آصف کے کشمیریوں سے متعلق بیان کی بھی مذمت کی گئی اور اسے قابلِ افسوس قرار دیا گیا۔
شرکاء اجلاس نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر کے بیشتر اضلاع کے انتخابی تھیلے کھول کر بیلٹ پیپرز کی دوبارہ گنتی کرائی جائے تاکہ انتخابات کے نتائج سے متعلق پیدا ہونے والے تحفظات دور کیے جاسکیں ، استحکام پاکستان پارٹی نے واضح کیا کہ وہ انتخابی نتائج اور وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے کو متعلقہ فورمز پر چیلنج کرے گی جبکہ مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے شواہد پر مشتمل وائٹ پیپر بھی سامنے لایا جائے گا۔

