$1.21 Billion Loan Approved, But the Burden Falls on the Public! IMF Orders Withdrawal of Fuel Subsidies Capitalnewspoint.com

1.21 ارب ڈالر کا قرض منظور، بوجھ پھر عوام پر! پٹرول سبسڈی ختم کرنے کا حکم

اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) ائی ایم ایف نے تین ڈالر روزانہ کمانے والے پاکستانیوں کی حکومت کے لیے مذاکرات کے بعد 1.21ارب ڈالر کا قرضہ منظور کر لیا یہ قرضہ روزانہ تین ڈالر کمانے والے پاکستانی شہری ائی ایم ایف کو ادا کریں گے جبکہ دوسری جانب ائی ایم ایف نے حکومت کی جانب سے پٹرول کی مد میں دی جانے والی سبسڈی واپس لینے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں.

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات کے بعد تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی مالی معاونت کا راستہ ہموار ہوگیا ہے ، تاہم اس رقم کی فراہمی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری سے مشروط تھی۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے لیے جاری پروگرام کے تحت جائزے کے بعد نئی مالی معاونت فراہم کیے جانے کی توقع ہے ، فنڈ کے پروگرام میں پاکستان کو مالیاتی نظم و ضبط، توانائی اور دیگر معاشی شعبوں میں اصلاحات سے متعلق متعدد اقدامات پر عمل درآمد کرنا ہے۔

پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا معاملہ :

دوسری جانب حکومت پاکستان نے بڑھتی ہوئی عالمی تیل قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے صارفین کے لیے 100 روپے فی لیٹر فیول ریلیف متعارف کرایا تھا ، سرکاری اعلان کے مطابق موٹرسائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ماہانہ مخصوص مقدار تک جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے بھی مقررہ مقدار پر یہ ریلیف فراہم کیا جا رہا تھا۔

بعد ازاں حکومت نے اسکیم میں مزید سہولتیں بھی متعارف کرائیں، جن میں موٹرسائیکل اور رکشہ صارفین کے لیے ہفتہ وار 500 روپے کے ٹوکن اور بعض شرائط میں نرمی شامل تھی۔

آئی ایم ایف پروگرام میں فیول سبسڈی سے متعلق پالیسی :

آئی ایم ایف کے پروگرام دستاویزات میں پاکستان کی جانب سے نئی عمومی فیول سبسڈی یا کراس سبسڈی متعارف نہ کرانے کی پالیسی شامل رہی ہے ، آئی ایم ایف نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کو عالمی قیمتوں سے ہم آہنگ کرنے اور باقاعدگی سے ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی معاونت کو الگ طریقے سے دیکھا جاسکتا ہے۔

یوں آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والی مالی معاونت کو براہ راست عام شہریوں کی جانب سے ’’روزانہ تین ڈالر کمانے والے پاکستانیوں‘‘ کی ادائیگی قرار دینا درست نہیں ، قرض حکومت پاکستان کے مالی پروگرام کے تحت حاصل کرتی ہے اور اس کی واپسی ریاستی مالی وسائل اور مستقبل کے بجٹ کے ذریعے کی جاتی ہے۔