اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے آج ایف ڈبلیو او (Frontier Works Organization) کی اعلیٰ سطحی ٹیم سے وزارتِ ریلوے میں ملاقات کی، جس میں پاکستان ریلوے کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ملاقات کے دوران ایف ڈبلیو او حکام نے وفاقی وزیر کو “ریلوے ایڈوانس انفراسٹرکچر نیٹ ورک (RAIN)” کے مجوزہ منصوبے کے خدوخال سے آگاہ کیا۔ یہ پروگرام ریلوے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور مستقبل میں ڈیجیٹل تبدیلی کی بنیاد رکھنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے بریفنگ میں بتایا گیا کہ RAIN کے تحت مستقبل میں ٹرین ٹریکنگ، فریٹ مینجمنٹ، اسمارٹ اسٹیشن سرویلنس، اور مسافروں کے لیے ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر ایف ڈبلیو او ٹیم نے وفاقی وزیر کو “ویئ اِن موشن سسٹم (Weigh-in-Motion System)” کے بارے میں بھی تفصیلی آگاہی دی۔ یہ نظام ریلوے کے آپریشنل معاملات میں شفافیت لانے اور فریٹ آپریشنز کی مؤثر مانیٹرنگ کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے تحت ویگنز پر R-Tags نصب کیے جائیں گے، جن کے ذریعے وزن کی ریئل ٹائم نگرانی ممکن ہوگی یہ سسٹم مستقبل میں ایک آپریشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کے ذریعے 24/7 نگرانی کی سہولت فراہم کرے گا۔ منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں کراچی سمیت چند بڑے اسٹیشنز کو پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے مزید برآں، ایف ڈبلیو او حکام نے وزیرِ ریلوے کو رولنگ اسٹاک ٹریکنگ اور ٹرین مانیٹرنگ سسٹم کے بارے میں بھی بریف کیا، جو مستقبل میں ریلوے کے فریٹ اور مسافر آپریشنز کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے ایم ایل-1 (Main Line-1) کے 52 اسٹیشنز پر فری اسمارٹ وائی فائی کی تنصیب کے منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی، جس سے مسافروں اور عملے کے درمیان رابطے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔
وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے ایف ڈبلیو او کی بریفنگ کو سراہتے ہوئے کہا “پاکستان ریلوے جدید ڈیجیٹل انقلاب کی سمت بڑھنے کے لیے واضح وژن رکھتا ہے۔ ہمارا مقصد ادارے کو ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے ریلوے کے نظام میں شفافیت، کارکردگی اور عوامی سہولتوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام مجوزہ منصوبوں کی فزیبلٹی اور عمل درآمد کے لائحہ عمل کو شفاف طریقے سے حتمی شکل دی جائےآخر میں وفاقی وزیرِ ریلوے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارتِ ریلوے ملک کے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے نجی و سرکاری اداروں کے ساتھ قریبی اشتراک جاری رکھے گی.

