اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کا تسلسل، پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کا احترام اور تشدد و انتشار کی مکمل روک تھام حکومت کی قومی سطح کی سب سے بڑی ترجیحات ہیں کیونکہ کوئی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت اگر تشدد کا راستہ اختیار کرے تو وہ نہ سیاست کر سکتی ہے اور نہ ہی جمہوریت کے تسلسل کی حقدار ہے،پارلیمنٹ اپنی آئینی حیثیت اور وقار کے ساتھ کام کرتی رہے گی اور سیاسی بنیادوں پر دئیے گئے استعفے نہ تو جمہوری نظام کو متاثر کرسکتے ہیں اور نہ ہی پارلیمانی عمل میں کوئی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
اتوار کویہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پیرفیض رسول رضوی کے بے لوث اعلان حمایت پر دلی طور پر مشکور ہیں جنہوں نے الیکشن میں ان کے بھائی بلال بدرچوہدری کی حمایت کا کھل کر اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ آستانہ عالیہ محدث اعظم پاکستان سنی رضوی مسجد جھنگ بازار کی یہ حمایت پانچ مختلف حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگی کیونکہ اصل گھرانے وہی ہیں جو آستانوں پر دین حق کا پیغام پہنچاتے ہیں اور عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ان حلقوں میں پہلے بھی متعدد بار کامیابی حاصل کرچکی ہے اور اس بار بھی پیر فیض رسول رضوی کی حمایت سے پارٹی کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون سے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ تشدد کو اپنا سیاسی ہتھیار بناتے ہیں وہ دراصل جمہوری عمل اور عوامی حقوق کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لیے ریاست کسی بھی گروہ یا جماعت کی جانب سے انتشار کی کوشش کو برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چاہے انتشار کا سبب کوئی سیاسی جماعت ہو یا مذہبی تنظیم، قانون سب کے لیے برابر ہے۔خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے آئینی دائرے میں رہ کر کام کرے گی تو ٹھیک ہے ورنہ وفاق کے پاس کئی آئینی آپشن کھلے ہیں جن پر عمل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے پی میں یہ جماعتیں حکومت بھی کرتی ہیں اور الیکشن بھی لڑتی ہیں، مگر پنجاب میں عوامی خدمت کے خوف سے بائیکاٹ کی راہ اختیار کی جاتی ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے صوبے میں جس قدر عوامی بہبود اور ترقیاتی کام کروائے ہیں ان کی وجہ سے سیاسی مخالفین مقابلے سے بھاگ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز نے عوام کو الیکٹر و بسیں، واٹر سپلائی، سڑکوں، سولر اور نیاگھر کی سہولیات فراہم کی ہیں جن کی وجہ سے لوگ مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی حمایت کررہے ہیں اور اسی وجہ سے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ مریم نواز کی پالیسیوں کو سراہا جارہا ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پارلیمنٹ کا حق ہے کہ وہ آئین میں ترمیم کرے ،چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیم نے پاکستان کو استحکام دیا ہے، اگر مزید آئینی ترمیم کی ضرورت پیش آئی تو حکومت اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر آئین میں مزید اصلاحات بھی کر سکتی ہے۔انہوں نے ملک میں سیاسی استحکام کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر اور وزیراعظم کی اہلیت کا فیصلہ آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت ہی ہوتا ہے اور اسی طریقہ کار کی بنیاد پر ریاست کے اعلیٰ عہدوں کا وقار قائم رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عوامی حمایت پر یقین رکھتی ہے۔ اس لئے ملک میں انتشار، تشدد اور منفی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ ریاستی اداروں کا احترام برقرار رہے، انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوں اور پارلیمنٹ اپنی آئینی طاقت کے ساتھ کام کرتی رہے تاکہ ملک میں جمہوری روایات اور سیاسی استحکام کا سفر مسلسل آگے بڑھتا رہے۔
پریس کانفرنس میں پیر فیض رسول رضوی، صاحبزادہ محمد رسول، میاں اشرف بریلوی، ملک نثار ٹوانہ، عمر حیات طور، اظہر طور، رانا عادل فاروق، شرافت علی قادری، رانا عرفان نمبردار، سید عبدالحنان شاہ اور مولانا الیاس رضوی نے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدوار بلال بدر چوہدری کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ایم این اے شہباز بابر، میاں عرفان منان، مہر حامد رشید، مہر عبدالرؤف اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

