اسلام آبا د(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ خسرہ اور روبیلا کی بیماریاں بچوں کی جان اور مستقبل دونوں کے لیے خطرناک ہیں،عالمی اداروں کے تعاون سے ان بیماریوں کے خلاف قومی ویکسین مہم شروع کی جا رہی ہے،یہ ویکسین پوری دنیا میں آزمودہ، محفوظ اور ضروری سمجھی جاتی ہے۔ بدھ کو حضرت بری امام کمیونٹی ہیلتھ سینٹر اسلام آباد میں خسرہ و روبیلا ویکسینیشن مہم کی مرکزی تقریب منعقد کی گئی، جس میں وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے خصوصی شرکت کی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او)، یونیسیف، گاوی سمیت متعدد مقامی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندے بھی تقریب میں شریک تھے۔ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی اداروں کے تعاون سے حکومت کو صحت کے شعبے میں بڑی آسانیاں میسر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی بڑی آبادی والے ممالک میں شامل ہے، اور بیماریوں کا پھیلاؤ بچوں کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خسرہ اور روبیلا لاحق ہونے سے بچے بینائی سے محروم یا دماغی مفلوج بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے والدین حفاظتی ٹیکوں میں غفلت نہ برتیں۔
سید مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ دنیا بھر میں 55 بیماریوں کے خلاف ویکسین موجود ہیں، جبکہ پاکستان میں ابھی صرف 13 ویکسین استعمال کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خسرہ و روبیلا ویکسین عالمی تحقیق سے ثابت شدہ اور مکمل محفوظ ہے اور یہ ہر گلی محلے میں مفت دستیاب ہے۔اپنے خطاب میں وزیر صحت نے کینسر سے متعلق عالمی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا میں کینسر سے بچاؤ کی ویکسین تیار ہوچکی ہے اور آئندہ دس برسوں میں دنیا بھر میں کوئی شخص کینسر سے نہیں مرے گا،تاہم پاکستان میں اس بارے میں غیر ضروری بحث اور شکوک و شبہات سامنے آسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں رش بڑھ رہا ہے اور مریضوں کو اپنی باری کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، اس لیے بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے رجحان کو فروغ دینا ہوگا۔ اہلِ محلہ اور سماجی کارکنوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ویکسین ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں، کیونکہ معاشرے کے ایک فرد کو بیماری سے بچانا نیکی اور قومی ذمہ داری ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر ڈیپینگ نے کہا کہ بچوں کی صحت ہر قوم کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے خسرہ و روبیلا ویکسین کو محفوظ اور بچوں کے لیے انتہائی ضروری قرار دیتے ہوئے 17 تا 29 نومبر جاری قومی مہم کو سراہا۔یونیسیف کی نمائندہ ڈاکٹر پرمیلا آر این نے کہا کہ یہ مہم عالمی اداروں کے اشتراک سے شروع کی گئی ہے تاکہ کم عمری میں لاحق ہونے والی خطرناک بیماریوں سے بچوں کو محفوظ کیا جاسکے۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ 6 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں کو لازمی ویکسین لگوائیں، کیونکہ خسرہ بچوں کی جان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔تقریب کے اختتام پر وزیر صحت نے والدین، کمیونٹی اور اداروں پر زور دیا کہ وہ حفاظتی ٹیکہ جات کی اس قومی مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

