وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ: پاکستان جنوبی ایشیا–مشرقِ وسطیٰ ڈیجیٹل کوریڈور میں ڈیجیٹل گروتھ کا مرکز بن رہا ہے

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے ہائی لیول راؤنڈٹیبل سیشن میں پاکستان کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر کلیدی خطاب کیا۔ وزیر نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا–مشرقِ وسطیٰ ڈیجیٹل کوریڈور میں ڈیجیٹل گروتھ کا اہم مرکز بن رہا ہے اور وزیراعظم کے “Digital Pakistan Vision 2030” کے تحت ملک کا ڈیجیٹل سفر مضبوط بنیادوں پر استوار ہے وزیر نے بتایا کہ پاکستان کے پاس 200 ملین موبائل صارفین، 60 فیصد براڈبینڈ رسائی، اور 210,000 کلومیٹر فائبر نیٹ ورک موجود ہے۔ انہوں نے CAREC ریجنل فائبر کنیکٹیویٹی معاہدے کو علاقائی ڈیجیٹل انضمام میں سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ پاکستان کو کم لیٹنسی کلاؤڈ، کراس بارڈر فِن ٹیک، اور AI تعاون کا گیٹ وے بناتا ہے۔

شزا فاطمہ نے بتایا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 معیشت، سروسز اور گورننس کو جدید بنیادوں پر استوار کرے گا اور اسٹیک پلیٹ فارم (ہیلتھ، ایگریکلچر، گورننس) ملک میں ڈیجیٹل سروسز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں مددگار ہوگا۔ وزیر نے رمضان میں 800,000 خواتین کو ڈیجیٹل والٹس کی فراہمی اور اسٹارٹ اپس کی تیزی سے ترقی کو بڑے سنگ میل قرار دیا وفاقی وزیر نے پاکستان کی Tier-1 گلوبل سائبر سیکیورٹی درجہ بندی، WebTrust آڈیٹڈ نیشنل PKI اور خواتین کی موبائل انٹرنیٹ گیپ کو 38 فیصد سے 25 فیصد تک کم کرنے کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ آخر میں وزیر نے مشرقِ وسطیٰ کے تمام ڈیجیٹل پارٹنرز کو South Asia–Middle East Digital Corridor میں شمولیت کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری، انوویشن اور علاقائی خوشحالی کیلئے سب سے مضبوط ڈیجیٹل ہب بننے کیلئے تیار ہے۔