اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی دارالحکومت میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن اتھارٹی کا ہائوسنگ پراجیکٹ 10ارب 59 کروڑ سے زائد کی رقم خرچ ہونے کے باوجود 7سالوں میں مکمل نہ ہوسکا کنسٹرکشن کمپنی صرف سٹرکچر بنا کر فرار‘ ہائوسنگ فائونڈیشن نے کمپنی کو فارغ کردیا 2019 سے شروع ہونے والا ہائوسنگ منصوبہ 7سال بعد بھی تاحال التواء کا شکار ، الاٹیوں کے دس ارب ڈوبنے کا خدشہ۔
ذرائع کے مطابق وزارت ہائوسنگ کے ذیلی ادارے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن نے 2019 میں 1467 فلیٹس کا مصوبہ شروع کیا منصوبے پر کنکریٹ بلڈرز نے کام شروع کیا ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپنی نے بعد ازاں مٹیریل مہنگا ہونے کا کہہ کر منصوبے پر کام بند کردیا جبکہ دوسری جانب ہائوسنگ فائونڈیشن اتھارٹی نے الاٹیوں سے ڈویلپمنٹ بجٹ دستاویز کے مطابق وصولی اور اخراجات کی مد میں سال 2025-26 کے بجٹ میں شو کیا .
اس ہائوسنگ پراجیکٹ سے ایف جی ای ایچ اے کو جو 2025-26 کے لئے جو رقم وصول ہوئی اس کی مالیت 10ارب 59کروڑ 69لاکھ سے زائد کی ہے جبکہ سال 2019 سے2025 تک کشمیر ایونیو اپارٹمنٹ پر جو اخراجات شو کئے ان کی مالیت 10ارب 59کروڑ خرچ ہوچکے ہیں جبکہ موقع پر بیس فیصد کام ہوا ہے اور یہ مصوبہ اربوں روپے لگانے کے باوجود بند پڑا ہے۔ کشمیر ایونیو اپارٹمنٹ کے الاٹیوں نے ہائوسنگ فائونڈیشن اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اربوں روپے کی رقم وہ جمع کرواچکے ہیں مگر منصوبہ بند ہونے کی وجہ سے ملک بھر کے الاٹی شدید پریشان ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزیر ہائوسنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پراجیکٹ کو جلد مکمل کرکے الاٹیوں کو دیا جائے۔ یاد رہے کہ 2019 میں اس منصوبے کا افتتاح وزیراعظم پاکستان نے کیا تھا۔

