اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں اقوامِ متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی قیادت مکالمے میں شرکت کی، جس کا عنوان تھا “The Bottom Line: Why Tackling Environmental Degradation Is Critical to the Future of the Global Financial System” اس اعلیٰ سطحی مکالمے میں عالمی رہنماؤں، پالیسی سازوں، مالیاتی ریگولیٹرز اور ماہرین نے شرکت کی، جہاں حکومتوں کی جانب سے اپنائے جانے والے اُن ہمہ گیر نظاماتی طریقۂ کار پر غور کیا گیا جن کے ذریعے نجی مالیاتی وسائل کو ایسے راستوں کی جانب موڑا جا رہا ہے جو معاشی اور مالیاتی نظام کے استحکام کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان، اراضی کی زبوں حالی، آلودگی اور فضلے جیسے مسائل سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں مباحثے کے دوران پالیسی ہم آہنگی، مؤثر ضابطہ جاتی فریم ورکس اور حکومت کے تمام شعبوں پر مشتمل نقطۂ نظر کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تاکہ پائیدار مالیات کے فروغ کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ اس موقع پر نجی سرمایہ کاری کو اعلیٰ اثر رکھنے والے شعبوں کی پائیدار منتقلی کے لیے متحرک کرنے اور مالیاتی فیصلوں میں ماحولیاتی خطرات کو شامل کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

اپنی گفتگو میں ڈاکٹر مصدق ملک نے اس امر پر زور دیا کہ ماحولیاتی زوال عالمی مالیاتی نظام کے لیے سنگین نظاماتی خطرات پیدا کر رہا ہے، اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی اخراج میں ان کا حصہ نہایت کم ہے، انہیں لچک پیدا کرنے اور ترقیاتی کامیابیوں کے تحفظ کے لیے منصفانہ، مؤثر اور قابلِ رسائی موسمیاتی مالی معاونت کی اشد ضرورت ہے.

وفاقی وزیر نے منصفانہ مالیاتی بہاؤ، مضبوط بین الاقوامی تعاون اور ذمہ دار نجی شعبے کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیداری اور مالیاتی استحکام کو ایک دوسرے کا معاون بنایا جانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے موسمیاتی لچک پر مبنی ترقی کے فروغ اور ماحول دوست مالی نظام کی تشکیل کے لیے عالمی کوششوں میں پاکستان کے مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔


