سوشل پروٹیکشن والٹ کے تحت مستحق خواتین کو فراہم کی جانے والی سمز کی حفاظت خود خواتین کی ذمہ داری ہے. چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام روبینہ خالد

لاہور(بیورو رپورٹ ):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ سوشل پروٹیکشن والٹ کے تحت مستحق خواتین کو فراہم کی جانے والی سمز کی حفاظت خود خواتین کی ذمہ داری ہے، کسی صورت معلومات شیئر نہ کی جائیں اور کسی کو پیسے نہ دیے جائیں، بی آئی ایس پی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں وسٹا سنٹرل پارک فیروز پور روڈ اور گورنمنٹ بوائز ہائی سکول بنگالی کیمپ سائٹ برکی روڈ کے دورے کے موقع پر کیا۔ دورے کا مقصد مستحق خواتین کے لیے سوشل پروٹیکشن والٹ کے تحت مفت سموں کی فراہمی کے عمل کا جائزہ لینا تھا۔سینیٹر روبینہ خالد نے کیمپ سائٹس پر موجود خواتین سے براہ راست بات چیت کی اور اپنی نگرانی میں مفت سموں کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

انہوں نے واضح ہدایت کی کہ یہ سمیں بالکل مفت ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی فرد کو پیسے دینا ہرگز قابلِ قبول نہیں۔گورنمنٹ بوائز ہائی سکول برکی روڈ کیمپ سائٹ پر شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی بھی کی گئی۔ اس موقع پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ایک بہادر خاتون تھیں جنہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے عظیم قربانیاں دیں۔ انہوں نے ساری زندگی حق اور انصاف کی جدوجہد کی جو آج بھی مشعلِ راہ ہے۔انہوں نے خواتین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ڈیجیٹل والٹ، سم اور موبائل فون کی خود حفاظت کریں اور کسی کے ساتھ والٹ کی معلومات شیئر نہ کریں۔

سینیٹر روبینہ خالد نے عملے کو بھی واضح ہدایات جاری کیں کہ جن خواتین کی رقوم سے کٹوتی کی شکایات ہیں، ان پر فوری کارروائی کی جائے اور کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے بتایا کہ آئندہ تمام اقساط انہی سموں کے ذریعے مستحق خواتین کے ڈیجیٹل والٹ میں منتقل کی جائیں گی تاکہ شفافیت اور سہولت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔