اسلام آباد( سپیشل رپورٹر )وفاقی حکومت نے ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کا نیا چیئرمین مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا نوٹیفکیشن وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے، حکومت نے ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کو ایک علحیدہ نوٹیفیکیشن کے ذریعے ایس ای سی پی میں کمشنرز مقرر کیا ہے۔ڈاکٹر کبیر احمد سدھو اس وقت کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کمپٹیشن کمیشن میں انہوں نے ادارے میں نمایاں اصلاحات اور جامع انفورسمنٹ کی صلاحیت کو بحال کیا۔ ڈاکٹر سدھو قانون میں بیچلر ڈگری، بینکنگ، انشورنس اور انٹرنیشنل بزنس لا میں ایل ایل ایم، اور یونیورسٹی آف مانچسٹر سے پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ انہوں نے مانچسٹر لا سوسائٹی سے سول لِٹیگیشن میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ بھی حاصل کیا ہے، جبکہ لندن انسٹیٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس سے مورگیج اور فنانشل ایڈوائس سے متعلق سرٹیفکیشنز بھی حاصل کیں۔
ان کی ڈاکٹریٹ تحقیق کا موضوع برطانیہ، امریکا اور شریعہ کمپلائنٹ اسٹاک ایکسچینجز میں سرمایہ کاروں کے تحفظ اور اسٹاک ایکسچینجز کے ضابطہ جاتی نظام پر مرکوز تھا۔دو دہائیوں سے زائد پیشہ ورانہ تجربے کے حامل ڈاکٹر سدھو نے برطانیہ میں انشورنس کمپنیوں، قانون فرموں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دیں، جبکہ پاکستان میں مختلف سرکاری وزارتوں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان میں بطور چئیرمین خدمات انجام دینے سے قبل وہ وزارتِ قانون میں سینئر لیگل کنسلٹنٹ کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے پرائیویٹائزیشن کمیشن میں بھی سینئر لیگل کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات سرانجام دیں ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں معروف ماہرینِ قانون کے ساتھ ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر بھی وابستہ رہے۔ڈاکٹر سدھو نے اگست 2023 میں کمپٹیشن کمیشن کے چئیرمین تعینات ہوئے تو ادارے کو طویل عرصے سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے بڑے بیک لاگ کاکمپتیشن کمیشن میں دو برس کے اندر انہوں نے زیر التوا مقدمات کے بیک لاگ میں 70 فیصد سے زائد کمی کی، جہاں عدالتوں میں فعال پیروی کے ذریعے 567 میں سے 434 مقدمات کے فیصلے ہوئے ۔ ڈاکٹر سدھو کے دور میں کمپٹیشن کمیشن نے تقریباً 1.36 ارب روپے کے جرمانے ریکور کیے، جو کہ گزشتہ سولہ برسوں میں مجموعی وصولیوں سے بھی زیادہ ہیں ۔
اس کے علاوہ انہون نے نئے انفورسمنٹ ایکشن لیتے ہوئے کارٹلائزیشن اور گمراہ کن مارکیٹنگ پر ایک ارب روپے سے زائد کے تازہ جرمانے عائد کیے ۔ڈاکٹر سدھو نے مختلف سیکٹروں میں کارٹلز اور مارکیٹ میں بدعنوانیوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی گئیں۔ پولٹری، چینی، خوردنی تیل، ٹیلی کام اور طبی خدمات کے شعبوں میں کارٹلز کے خلاف بڑی تحقیقات شروع کی گئیں ور جرمانے عائد کیے گئے۔ کمیشن کے متعدد فیصلوں کو سپریم کورٹ اور کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے برقرار رکھا، اور کمیشن کے اقدامات کی عدالتی توثیق کی۔ڈاکٹر سدھو نے صارفین کے تحفظ اور گمراہ کن تشہیر کے خلاف کارروائیوں پر خاص توجہ دی۔
کمپتیشن کمیشن نے رئیل اسٹیٹ، گھریلو گراسری کی اشیاء، تعلیم، فارما سیٹیکل، شوگر پولٹری، تعلیم اور آٹوموبائل کے شعبوں میں انکوائریاں کروائیں اور متعدد کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے۔ اس سلسلے میں اہم انکوائریوں میں کنگڈم ویلی، فریزلینڈ کیمپینا، یونی لیور، اینگرو، الغازی ٹریکٹرز، ہنڈائی نشاط، برٹش لائسیم اور تھری این لائف میڈ شامل ہیں، جس سے گمراہ کن مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کا پیغام دیا گیا۔انہوں نے مارکیٹ کی موثر مانیٹرنگ کے لئے مارکیٹ انٹیلیجنس یونٹ (ایم آئی یو) قائم کیا ، جو مارکیت سے حاصل شدہ ڈیٹا کو آرٹیفیشل انٹیلی جینس کے ٹول استعمال کر کے جائزہ لیتا رہتا ہے۔ اس یونٹ نے 38 ہزار سے زائد ٹینڈر دستاویزات کا تجزیہ کیا، 13 ارب روپے مالیت کے مشتبہ ٹینڈرز کی جانچ کی اور انفورسمنٹ کے اقدامات کے لیے 200 سے زائد کیسز کی نشنادہی کی۔مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے شعبے میں کمپٹیشن کمیشن نے 139 کمپنیوں کے انضمامی معاملات (مرجرز) کا جائزہ لینے کے بعد منظوری دی۔ نمایاں ٹرانزیکشن میں میں پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کا مرجر ، شیل پاکستان کی وا فائی انرجی کو فروخت، کے علاوہ مالیاتی خدمات، توانائی اور لاجسٹکس کے شعبوں میں کئی بڑی ٹرانزیکشن شامل تھیں۔ پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے مرجر کے فیصلے کو تمام اسٹیک ہولڈروں نے سرمایہ کاری کے فروغ اور مسابقتی تحفظ کے درمیان توازن کے باعث خاص طور پر سراہا ۔

