اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)صدر مملکت آصف علی زرداری نے بدھ کے روز قصر القضیبیہ میں بحرین کے فرماں روا عزت مآب شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور مملکت بحرین کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے باہمی تعاون کو عملی جہت دینے اور دوطرفہ روابط کو نئی رفتار دینے کے عزم کا اظہار کیا۔صدر مملکت کے ہمراہ خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری، سینیٹر سلیم مانڈی والا اور وزیر زراعت بلوچستان میر علی حسن زہری بھی موجود تھے۔
محل آمد پر صدر مملکت آصف علی زرداری کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے پاکستان-بحرین تعلقات کے فروغ میں خدمات کے اعتراف میں صدر آصف علی زرداری کو مملکت بحرین کا اعلیٰ ترین اعزاز آرڈر آف شیخ عیسیٰ بن سلمان آل خلیفہ (فرسٹ کلاس) عطا کیا۔ صدر مملکت نے قصر القضیبیہ کی وزیٹرز بک میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔صدر آصف علی زرداری نے ابتدا میں شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ون آن ون ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان-بحرین تعلقات کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا اور ان کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
صدر مملکت نے شاہ بحرین اور بحرینی قیادت کی جانب سے فراہم کی گئی گرمجوشی اور شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے لیے شاہ بحرین کی مستقل خیرسگالی کو سراہا۔ انہوں نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور شاہ بحرین کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔بعد ازاں ہونے والی توسیعی ملاقات میں دونوں فریقین نے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کو بڑھانے کے ٹھوس طریقوں پر گفتگو کی۔ صدرمملکت آصف علی زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط سیاسی تعلقات کو بڑھتی ہوئی تجارت اور گہرے سرمایہ کاری روابط میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے ترجیحی شعبہ جات جن میں زراعت و غذائی تحفظ، آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات، صحت، سیاحت اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں، میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی معاونت میں سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے سہولت کار کردار کو اجاگر کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان بحرین کو ایک اہم اقتصادی شراکت دار سمجھتا ہے اور قریبی تعاون سے دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدہ مند مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کی اقتصادی صلاحیت، علاقائی رابطہ کاری اور ہنرمند افرادی قوت کا حوالہ دیتے ہوئے پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی۔صدر آصف علی زرداری نے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے قائم دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو دوطرفہ تعلقات کا ستون قرار دیا اور مسلح افواج کے مابین قریبی ادارہ جاتی روابط کا ذکر کرتے ہوئے اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ عالمی برادری اس وقت غیر یقینی اور تیز رفتار تبدیلیوں کے ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ابھرتے ہوئے عالمی نظام کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اقوام کو باہم متحد رہنا ہوگا، کیونکہ ایک خطے کے عدم استحکام کے اثرات دیگر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے اتحاد، ثابت قدمی، دانشمندی اور ضبط کو آئندہ دور کی بنیادی اقدار قرار دیا اور کہا کہ اجتماعی عزم کے ذریعے نہ صرف مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ترقی بھی ممکن ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے بحرین میں مقیم پاکستانی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم پل قرار دیتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بحرینی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ وہ مملکت میں مقیم اور کام کرنے والے ایک لاکھ سولہ ہزار سے زائد پاکستانیوں کو عزت، مواقع اور معاونت فراہم کر رہی ہے اور بحرین کی ترقی اور عوامی روابط میں ان کی مثبت خدمات کو سراہا۔انہوں نے اسلام آباد میں کنگ حمد یونیورسٹی برائے نرسنگ اینڈ الائیڈ میڈیکل سائنسز کے قیام کو شاہ بحرین کا ایک فراخدلانہ تحفہ قرار دیا اور اسے پاکستان اور بحرین کے درمیان دوستی اور تعاون کی پائیدار علامت بتایا۔
دونوں رہنمائوں نے امن، استحکام اور کثیرالجہتی نظام کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز پر بالخصوص امت مسلمہ سے متعلق مشترکہ امور پر مربوط کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔صدر آصف علی زرداری کے اعزاز میں دی گئی ضیافت سے خطاب کرتے ہوئے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے پاکستان اور بحرین کو باہمی احترام، اسلامی اخوت اور مشترکہ مفادات پر مبنی تاریخی تعلقات کے حامل برادر ممالک قرار دیا۔
انہوں نے صدر مملکت کے دورے کو دوطرفہ تعلقات کے مزید استحکام کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے بحرین کے عزم کا اعادہ کیا۔ شاہ بحرین نے پاکستان کی جانب سے بحرین کی مسلسل حمایت، پاکستانی برادری کی مثبت خدمات، عرب اور اسلامی دنیا کے مسائل میں پاکستان کے کردار اور علاقائی و بین الاقوامی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔
اس موقع پر پاکستان میں بحرین کے سفیر محمد ابراہیم عبدالقادر اور بحرین میں پاکستان کے سفیر ثاقب رئوف بھی موجود تھے۔ بحرین کی جانب سے کمانڈر بحرین نیشنل گارڈ شیخ محمد بن عیسیٰ آل خلیفہ اور وزیر خارجہ بحرین شیخ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔

