اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے سال 2025 کے دوران متعدد اصلاحات، ڈیجیٹل اقدامات اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں سرگرمیوں کے ذریعے مذہبی ہم آہنگی، قرآنی تعلیمات کے فروغ، سیرتِ رسول ﷺ کے پیغام کی ترویج اور حج انتظامات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، سال کے دوران پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی قرأت مقابلہ جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں 37 ممالک کے قراء نے شرکت کی۔ ملائیشیا نے پہلی، ایران نے دوسری جبکہ پاکستان نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس اقدام سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت مذہبی تشخص اجاگر ہوا اور نوجوانوں میں دینی سرگرمیوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔
قومی سطح پر حفظ القرآن، حسن قرأت اور محفلِ شبینہ کے مقابلے منعقد کیے گئے جبکہ نمایاں شرکاء کو دبئی، روس، ترکی، سعودی عرب، کویت اور مراکش میں بین الاقوامی مقابلوں کے لیے نامزد کیا گیا۔ پچاسویں سیرت کانفرنس “نبی الرحمہ” کے عنوان سے منعقد ہوئی جس میں اسلامی دنیا کے مندوبین اور تمام مکاتب فکر کے علماء نے شرکت کی،وزارت نے تعلیمی و تحقیقی شعبے میں سیرت مقابلوں کو ڈیجیٹل بنایا، مصنوعی ذہانت کے ذریعے سرقہ جانچ نظام متعارف کرایا اور پچاس سالہ سیرت مقالہ جات کی ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز کیا،بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے قومی علما و مشائخ کونسل کو ازسرنو فعال کیا گیا جبکہ بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی اور مذہبی رواداری حکمت عملی کی کابینہ سے منظوری حاصل کی گئی۔ قومی کمیشن برائے اقلیت کا ایکٹ بھی پارلیمنٹ سے منظور ہوا۔
قرآن کریم کی اغلاط سے پاک طباعت، مستند ڈیجیٹل قرآن اور موبائل ایپ کے اجرا کے ساتھ ساتھ شہید اوراقِ قرآن کی باوقار تلفی کے لیے ری سائیکلنگ پلانٹ کی تنصیب آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے،حج 2025 کے شاندار انتظامات پر سعودی وزارت حج و عمرہ نے پاکستان کو ایکسی لینس ایوارڈ دیا جبکہ وزیراعظم پاکستان نے وفاقی وزیر مذہبی امور کو خصوصی شیلڈ سے نوازا۔ ڈیجیٹل نگرانی، پاک حج موبائل ایپ، شفاف حج اسکیم اور 3.5 ارب روپے کی رقوم کی واپسی نمایاں اقدامات رہے۔ حج 2026 کی تیاریاں بھی بروقت مکمل کی گئیں،عمرہ رولز 2025، زیارات کے لیے ڈیجیٹل ZGO نظام، نظامِ صلوٰۃ کمیٹی کی بحالی، روٹ ٹو مکہ منصوبے کی توسیع، اور مذہبی قیادت کی سماجی آگاہی مہمات بھی سال کی اہم کامیابیاں رہیں۔
اقلیتوں کے فلاحی فنڈز، اسکالرشپس، ترقیاتی منصوبوں اور مذہبی تہواروں کی سرکاری سرپرستی نے مذہبی رواداری کو فروغ دیا۔ کرتارپور راہداری کی 24 گھنٹوں میں بحالی کو بھی سراہا گیا،وزارت نے ویب ایویلیوایشن سیل کے ذریعے 74 ہزار سے زائد آن لائن لنکس کی نشاندہی کر کے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے قیام میں بھی کردار ادا کیا، ان تمام اقدامات کو شفاف طرز حکمرانی، مذہبی ہم آہنگی اور عوامی سہولت کے عزم کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

