کوئٹہ (بیورو رپورٹ )وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ایک روزہ دورے پرکوہلو پہنچے جہاں سابق صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری اور قبائلی عمائدین نے ان کا استقبال کیا ۔ وزیراعلیٰ کے ہمراہ رکن صوبائی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما علی مدد جتک بھی موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر قبائلی عمائدین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور عہدے داران سے خطاب کرتے ہوئے شہید میر گل خان مری اور جسٹس محمد نواز مری کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے کوہلو کے عوام اور سکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں جس کے باعث کوہلو میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوہلو میرا دوسرا گھر ہے اور یہاں کے لوگوں سے میرا پرانا تعلق ہے ۔ انہوں نے کوہلو کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اس سال ڈسٹرکٹ کونسل کے بجٹ میں 50 کروڑ اضافی گرانٹ دینے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کوہلو شہر میں ٹف ٹائلز اور سیوریج نظام کی بہتری کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے سب تحصیل رحمان آباد ، سب تحصیل گرسنی اور سب تحصیل تمبو کو تحصیل کا درجہ دینے اور یونین کونسل کرم خان شہر کو سب تحصیل کا درجہ دینے کا اعلان کیا ۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ قبائلی دشمنیاں باہمی افہام و تفہیم سے حل ہوتی ہیں ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ایسے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ میری ایک سرکاری ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک قبائلی ذمہ داری بھی ہے جسے مجھے بطریق احسن نبھانا ہے اور میری یہی کوشش ہے کہ قبائلی تنازعات کا مکمل خاتمہ کرتے ہوئے علاقے کو مجموعی ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن کیا جائے۔

