سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، درخواستوں میں “بخدمت جناب ایس ایچ او” لکھنا ممنوع قرار

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر )سپریم کورٹ نے ایک تاریخی اور اہم فیصلے میں پولیس نظام میں نوآبادیاتی طرزِ فکر کو مسترد کرتے ہوئے شہریوں کی درخواستوں میں “بخدمت جناب ایس ایچ او” لکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح قرار دیا کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، عوام اس کے ماتحت یا نوکر نہیں ، سپریم کورٹ کے مطابق اب پولیس کو دی جانے والی درخواستوں میں صرف “جناب ایس ایچ او” لکھا جائے گا، جبکہ غلامانہ زبان کے استعمال کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ایف آئی آر درج کروانے والے شہری کو “اطلاع دہندہ” کہا جائے گا، نہ کہ “شکایت کنندہ”۔ عدالت کے مطابق “شکایت کنندہ” کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایات تک محدود ہوگی۔

فیصلے میں پولیس کارروائیوں میں “فریادی” کا لفظ استعمال کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ “فریادی” رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، جبکہ شہری حق مانگتا ہے، احسان نہیں . عدالت عظمیٰ نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے پولیس افسران کو سخت وارننگ جاری کی۔ فیصلے کے مطابق ایف آئی آر میں بلاجواز تاخیر پر پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 201 کے تحت مقدمہ درج ہو سکتا ہے، کیونکہ تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے یہ واضح ہدایات جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کے اٹھائے گئے نکتے پر جاری کی گئیں۔ سپریم کورٹ نے زور دیا کہ ریاستی رویے میں بنیادی اور عملی تبدیلی ناگزیر ہے تاکہ عوام کو عزت، انصاف اور فوری قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔