اسلام آباد ( سپیشل رپورٹر) ڈائریکٹر ایف آئی اے نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ سیکٹر جی 14/1 میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا معاملہ میں نامزد گیارہ ملزمان کو شامل تفتیش نہ کرنے پر تفتیشی آفیسر کو ہٹا دیا جبکہ عدالت سے گرفتار ڈپٹی کمشنر کی ضمانت خارج ہوگئی۔ ایف آئی اے کے ٹرپل سی ونگ نے ایف جی ای ایچ اے کے 51کروڑ روپے کے بی یو پی کی تحقیقات کی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمہ کے تفتیشی اور دیگر ماتحت افسران نے ساز باز کرتے ہوئے مقدمہ میں گیارہ نامزد ملزمان کو ایف آئی آر سے غائب کردیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں جو ملزمان شامل ہیں وہ چھلو گاؤں کے نہ ہیں ان کو بی یو پی کی مد میں کروڑوں روپے ان کے اکائونٹس میں گئے.
ان میں سجاد احمد خان‘ راجہ عتیق الرحمن‘ الطاف خان پراپرٹی ڈیلر جواد ارشد‘ ثاقب محمود سمیت دیگر جن میں تحصیلدار عرفان ڈوگر بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بی یو بی کی مد میں جو رقم انہیں ایف جی ای ایچ اے سے ملی ان میں سید شوکت علی جاوید تراب فاطمہ نے تین کروڑ 39لاکھ بی یو بی نمبر8جمال شاہ‘ 10کروڑ بی یو بی 231‘ 237 سمیت دیگر ایک ہی خاندان میں مجموعی طور پر 18کروڑ روپے دیئے گئے۔ عدنان شہزاد نے 5کروڑ سے زائد عمر‘ 8کروڑ سے زاہد الطاف خان پراپرٹی ڈیلر نے 13کروڑ سے زائد کی رقم لی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے مقدمہ کے تفتیشی مرزا وقاص کو تبدیل کرکے فہیم کو تفتیش دے دی ہے۔کیپیٹل نیوز پوائنٹ نے ہٹائے گئے تفتیشی مرزا وقاص سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ میں نے تفتیش قانون کے مطابق کی ہے مقدمہ میں تمام قانونی کارروائی مکمل ہےمیرا تبادلہ پاسپورٹ سیل کردیا گیا ہے ۔ متاثرین نے ڈائریکٹر ایف آئی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیلدار عرفان ڈوگر سمیت مذکورہ بالا گیارہ افراد کو بھی مقدمہ میں نامزد کیا جائے ورنہ متاثرین احتجاج پر مجبور ہونگے دوسری جانب گرفتار ملزم ڈپٹی کمشنر یاسر قیوم نے عدالت سے بعد از گرفتاری درخواست ضمانت دائر کی جو عدالت نے خارج کردی ہے۔

