نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کا نیویارک کا مصروف اور نتیجہ خیز ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیویارک کا مصروف اور نتیجہ خیز ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل کر لیا۔ دورے کے دوران فلسطین سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی جس کی صدارت برطانیہ کے وزیر خارجہ نے کی۔ یہ اجلاس بورڈ آف پیس (بی او پی) کے افتتاحی اجلاس سے قبل منعقد ہوا۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے نیو یارک دورے کے دوران متعدد دوطرفہ ملاقاتیں اور دیگر سرکاری مصروفیات بھی انجام دیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے حالیہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات جن کا مقصد کنٹرول کو مزید وسعت دینا ہے، کی شدید مذمت کی اور ان اقدامات کو فوری طور پر روکنے اور واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا جو بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک قابل اعتماد اور معینہ مدت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ عمل جون 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور متصل ریاست فلسطین کے قیام پر منتج ہونا چاہیے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت بورڈ آف پیس ان مقاصد کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات میں معاون ثابت ہوگا۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے مصر، اردن، انڈونیشیا اور برطانیہ کے ہم منصب وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے فلسطین کے وزیر و مستقل مندوب اور شام کے مستقل مندوب سے بھی ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی و بین الاقوامی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے مختلف شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، دفاعی اور عوامی روابط سمیت دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوئوں پر گفتگو کی۔

انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل اور موثر اداراتی میکنزم کی اہمیت پر زور دیا۔یہ دورہ پاکستان کی فعال سفارتی کاوشوں اور اہم دوطرفہ ترجیحات کے فروغ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔