اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )گورنر پنجاب سردارسلیم حیدر نے پاکستان سویٹ ہوم کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے یتیم اور نادار بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور صلاحیتوں کو سراہا اور مخیر حضرات پر زور دیا کہ وہ معاشرے کے کمزور طبقات کی معاونت کے لیے اپنے تعاون میں اضافہ کریں۔تقریب میں طلبہ، ڈونرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ وہ سویٹ ہوم کے بچوں کی صلاحیتوں سے بے حد متاثر ہوئے ہیں، جنہوں نے تعلیم کے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے ان اساتذہ اور منتظمین کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جو پسِ پردہ رہ کر بچوں کی تعلیم، تربیت اور نگہداشت میں مصروفِ عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سویٹ ہوم کے تعلیمی، تربیتی، طبی اور فلاحی پروگرام اپنی نوعیت کے منفرد اقدامات ہیں، جو نہ صرف بچوں کو سہارا فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں باوقار مستقبل کی راہ بھی دکھاتے ہیں۔
گورنر نے صاحبِ ثروت افراد سے اپیل کی کہ وہ ان پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ مستحق بچوں کے لیے پائیدار مواقع یقینی بنائے جا سکیں۔اس موقع پر پاکستان سویٹ ہوم کے سرپرست اعلیٰ زمرد خان نے کہا کہ ادارے کے متعدد طلبہ ملک کی معروف جامعات، میڈیکل، آئی ٹی اور انجینئرنگ کالجز میں زیر تعلیم ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مناسب رہنمائی اور وسائل کی فراہمی سے یہ بچے بھی قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بے سہارا اور یتیم بچوں کا سہارا بننا ان کی زندگی کا مشن ہے اور وہ اپنی آخری سانس تک اس مقصد کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ ان کے مطابق ادارے کا دائرہ کار شمالی وزیرستان سے آزاد کشمیر اور سکھر تک پھیل چکا ہے، جو اس کے قومی سطح پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔زمرد خان نے مزید بتایا کہ پاکستان سویٹ ہوم اس وقت دس میگا منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن کے ذریعے بچوں کو رہائش، تعلیم، صحت کی سہولیات اور کردار سازی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
تقریب کے دوران طلبہ کی تعارفی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں بچوں نے اپنے تعلیمی سفر اور مستقبل کے عزائم بیان کیے۔ ان کے پُراعتماد اظہارِ خیال پر پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔سالانہ افطار ڈنر میں بڑی تعداد میں ڈونرز نے شرکت کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے جو معاشرے کے سب سے زیادہ مستحق بچوں کو امید اور باوقار مستقبل فراہم کرتے ہیں۔

