DRY PORT CONTAINERS CAPITALNEWSPOINT.COM

اسلام آباد ڈرائی پورٹ میں کروڑوں کی ٹیکس چوری اسکینڈل، کسٹم افسران کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ مکمل

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی دارالحکومت میں کسٹم کے چند افسران کی مبینہ ملی بھگت سےکروڑوں روپے مالیت کے آٹو پارٹس کی آڑ میں ٹیکس چوری کرنے والے مافیا کے خلاف تحقیقات کیلئے بنائی گئی کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کرکے اعلیٰ حکام کو پیش کردی ہے ۔

کمیٹی سپرنٹنڈنٹ ملک سلیم سمیت 4کسٹم افسران پر مشتمل تھی ، کیپیٹل نیوز پوائنٹ کو ذرائع نے بتایا کہ جس مافیا کے خلاف تحقیقات ہورہی ہے اس نے اپنے اثرورسوخ سے معاملے کو دبانے کیلئے ڈرائی پورٹ کے سپرنٹنڈنٹ ملک سلیم کا نام بھی کمیٹی میں ڈال دیا تاکہ ان کو تحقیقاتی کمیٹی کلیئر کر دے اور پھر سے مافیا اپنا سلسلہ شروع کردیں۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ڈرائی پورٹ میں کروڑوں روپے مالیت کے 24 کنٹینرز میں آٹو پارٹس کو سکریپ شو کر کے کلیئر کرنے کا معاملہ ، چیف کلکٹرنے روک لیے ،ڈیوٹی چیک کرنے کے احکامات جاری، ذرائع کے مطابق چیف کلکٹر کسٹم اسلام آباد کو اطلاع ملی تھی کہ اسلام آباد ڈرائی پورٹ سے آٹو پارٹس کی کنٹینرز کی ایگزامنیشن کے دوران ڈرائی پورٹ کے کسٹم افسران نے آ ٹو پارٹس سمیت دیگر سامان کو سکریپ شو کر کے ڈیوٹی ٹیکس کم لگانے کی شکایات پر 24 کنٹینرز جو کہ مبینہ طور پر حاجی ثقلین کےبیٹے عرفان ،ناصر خان ،یوسف مروت، اجمل خان، جو کہ بیرون ملک سےآٹو پارٹس منگواتے ہیں روک کر دوبارہ چیک کرنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی گئی جس پر تحقیقاتی کمیٹی نے تمام کنٹینرز کو دوبارہ کھول دیا۔

یاد رہے کہ 24 کنٹینرز کلیئر کر کے گیٹ پر جا رہے تھے کہ اچانک چھاپہ مار ٹیم نے روک لیے آٹو پارٹس جن میں ڈیوٹی ٹیکس زیادہ تھا لیکن کسٹم انسپکٹرز نے ان کو سکریپ شو کیا۔ ڈپٹی کلکٹر فرہاد اللہ اور ایڈیشنل کلکٹر ریاض حسین سی آئی یو یونٹ نے خود موقع پر چیک کر رہے تھے جبکہ کلکٹر رضوان صلابت کے احکامات پر فرہاد اللہ ڈپٹی کلکٹر کو ڈرائی پورٹ پر بھیجا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف کلکٹر نےاپنی ٹیم بھجوائی جو کہ ریاض حسین ایڈیشنل کلکٹر،اور نتاشہ ، فریاد شاہ اورسپرنٹنڈنٹ سلیم پر مشتمل تھی ٹیم نے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ چیف کلکٹر کو بھجوا دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف کلکٹر نے ٹیکس چیک کرنے کے لئے ٹیم بھجوائی لیکن کلکٹر کسٹم اسلام آباد نے ڈرائی پورٹ کے سپرنٹنڈنٹ ملک سلیم کو بھی اس ٹیم کا حصہ بنانے کے لئے کہا جو چیف کلکٹر نے منظور کرتے ہوئے شامل کرلیا جس نے رپورٹ مکمل کرکے چیف کلکٹر کو بھجوا دی ہے۔