نیو یارک کے میئر زوہران ممدانی کا 124.7 ارب ڈالر بجٹ پیش، فیسوں میں اضافے اور بچت کے دعوؤں پر تنقید

نیو یارک (ویب ڈیسک )نیو یارک پوسٹ کے مطابق، نیو یارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے 124.7 ارب ڈالر کا بجٹ پیش کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہر کے اربوں ڈالر کے بجٹ خسارے کو مختصر مدتی اقدامات اور متوقع بچت کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔ تاہم اس منصوبے پر تنقید بھی کی گئی ہے کہ اس میں مختلف شہری خدمات پر نئے اور بڑھائے گئے فیس چارجز شامل ہیں۔

مالی نگرانی کرنے والے اداروں اور ناقدین نے انتظامیہ کے اس دعوے پر سوال اٹھائے ہیں کہ یہ بجٹ “حکومت کے ایک نئے دور” کی نمائندگی کرتا ہے، اور کہا ہے کہ آئندہ دو سال میں 1.7 ارب ڈالر کی متوقع بچت غیر یقینی یا دوبارہ اندازہ لگائی گئی آمدنی پر مبنی ہے۔ بعض ناقدین نے ان اعداد و شمار کو “فرضی بچت” قرار دیا ہے، اگرچہ انتظامیہ نے پراپرٹی ٹیکس میں 9.5 فیصد اضافے کی پہلے کی تجویز واپس لے لی تھی۔

رپورٹ کے مطابق بجٹ میں ایمبولینس ٹرانسپورٹ کی فیس میں اضافہ شامل ہے جس سے سالانہ تقریباً 25 ملین ڈالر حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ ایسے مریضوں سے بھی ای ایم ایس فیس وصول کی جائے گی جنہیں اسپتال منتقل نہیں کیا جاتا، جس سے مزید تقریباً 10 ملین ڈالر آمدن متوقع ہے۔ اضافی آمدنی کے اقدامات میں ٹریفک قوانین کی سختی، بس لین کی خلاف ورزی پر زیادہ جرمانے، ویسٹ انڈسٹری اور ہول سیل مارکیٹس پر سخت نگرانی، اور درختوں کی تبدیلی کی فیس میں اضافہ شامل ہے۔

انتظامیہ نے ٹیکس کریڈٹس اور چھوٹ (abatements) پر آڈٹ اور عملدرآمد بڑھانے کا بھی منصوبہ بنایا ہے، جس سے سالانہ تقریباً 24 ملین ڈالر اضافی آمدن متوقع ہے بچت کا ایک بڑا حصہ محکمہ تعلیم سے متعلق ہے، جہاں “اخراجات میں کمی” کی پالیسی کے تحت رواں مالی سال میں تقریباً 149.5 ملین ڈالر اور اگلے سال 922 ملین ڈالر تک بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

میئر ممدانی نے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ کارکردگی بہتر بنانے اور ساتھ ہی رہائش، بچوں کی دیکھ بھال، تعلیم، پارکس اور ماحولیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کو جاری رکھنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے سخت کفایت شعاری پر انحصار کیے بغیر بچت اور کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دی ہے۔