گلگت بلتستان میں مبینہ پری پول دھاندلی اور سیاسی انتقام ناقابل قبول، پی ٹی آئی کا شفاف انتخابات کا مطالبہ

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے گلگت بلتستان میں مبینہ پری پول دھاندلی، سیاسی انتقام اور ریاستی جبر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے، جو جمہوری اصولوں اور شفاف انتخابات کے تقاضوں کے منافی ہے۔

ترجمان پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ فارم 47 حکومت گلگت بلتستان میں آزاد اور منصفانہ انتخابات سے خوفزدہ ہے اور انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا مبینہ جانبدارانہ کردار بھی جمہوری اقدار کے خلاف ہے اور اس پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

شیخ وقاص اکرم نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی والدہ کو نوٹس جاری کرنا سیاسی انتقام کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کو پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے پر مجبور کرنے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں سرگرم شرکت ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے ارکان کو گلگت بلتستان میں داخلے سے روکنا غیر جمہوری اقدام ہے، ان کے بقول گلگت بلتستان کو ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔

ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ ریاستی جبر، دباؤ اور مبینہ دھاندلی کے ذریعے عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان میں تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں اور حقیقی معنوں میں لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے۔

انہوں نے سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کا نوٹس لیں اور سیاسی انتقام کے خاتمے، جمہوری حقوق کی بحالی اور شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف انتخابی دھاندلی، سیاسی انتقام اور ریاستی جبر کی سیاست کو یکسر مسترد کرتی ہے اور عوام کے جمہوری حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔