فائلرز کے لیے پراپرٹی ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز، خرید و فروخت پر شرحیں نمایاں طور پر کم کرنے کا منصوبہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) حکومت نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجویز تیار کر لی ہے، جبکہ اس حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فائلرز کے لیے پراپرٹی خریدنے پر عائد ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ پراپرٹی فروخت کرنے پر ٹیکس کی شرح 4.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد تک لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں میں کمی سے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی بہتری متوقع ہے، ذرائع کے مطابق مجوزہ ریلیف صرف فائلرز کے لیے ہوگا، جبکہ نان فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ پراپرٹی سیکٹر ملکی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے اور ٹیکسوں میں کمی سے اس شعبے میں جمود کا خاتمہ اور نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی ، واضح رہے کہ مجوزہ تجاویز کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے، تاہم حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔