وفاقی وزرا پارلیمنٹیرین 2025 – 26 میں تنخواہوں میں 140 فیصد اضافہ جبکہ 2026- 27 میں سرکاری ملازمین 10 سے 15 فیصد اضافہ کی تجویز

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی حکومت کے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجویز سامنے آنے کے بعد حکومتی ترجیحات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال 2025-26 میں ارکانِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی تنخواہوں اور مراعات میں تقریباً 140 فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔

دستاویزی معلومات کے مطابق گزشتہ سال قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ منظور کیا تھا، جس کے بعد ایم این ایز اور سینیٹرز کی ماہانہ تنخواہ بڑھ کر تقریباً 5 لاکھ 19 ہزار روپے مقرر ہوئی۔ اس اضافے کا جواز بڑھتی ہوئی مہنگائی، سرکاری ذمہ داریوں اور اخراجات میں اضافہ قرار دیا گیا تھا۔

دوسری جانب حالیہ بجٹ تجاویز میں لاکھوں سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں میں نسبتاً محدود اضافہ زیر غور ہے، جس پر ملازمین تنظیموں اور مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر مہنگائی کے دباؤ کے باعث اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں میں بڑا اضافہ ممکن تھا تو عام سرکاری ملازمین کے لیے بھی اسی نوعیت کی پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔

مبصرین کے مطابق مہنگائی کے اثرات صرف اعلیٰ سطح تک محدود نہیں بلکہ نچلے اور درمیانی درجے کے سرکاری ملازمین بھی روزمرہ اخراجات، بجلی و گیس کے بلوں اور بنیادی ضروریات میں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس صورتحال میں تنخواہوں میں اضافے کے فیصلوں میں برابری اور انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے تاحال اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم بجٹ تجاویز پر جاری بحث نے ایک نئی قومی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا تنخواہوں کے تعین کا معیار تمام طبقات کے لیے یکساں ہونا چاہیے یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ آئندہ مالی پالیسی کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔