مظفرآباد (ویب ڈیسک) عوامی ایکشن کمیٹی اس کی حکومت کے خلاف احتجاج کی کال کے بعد ازاد کشمیر حکومت نے ایکشن کمیٹی سمیت دیگر کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن انٹرنیٹ موبائل سروس بند گرفتاریوں کے لیے پولیس کے چھاپے، کشمیر جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا آ زاد کشمیر میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ذرائع کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے عہدے دار شوکت میر نے ایک روز قبل حکومت کے خلاف احتجاج کی تحریک کا اعلان کیا تھا .
کہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مہاجرین کی 12 نشستیں ختم کرنے کے مطالبہ کے بعد یہ نشستیں ختم کر دی تھیں لیکن اب دوبارہ الیکشن ہو رہے ہیں تو مہاجرین کی 12 نشستوں پر تقاضا کیا جا رہا ہے جو کہ کشمیری عوام کو منظور نہیں عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی کو الیکشن لڑنا ہے تو وہ کشمیر میں ا کر الیکشن لڑے جس کے بعد نو جون سے قبل ہی ازاد کشمیر جانے والے تمام راستہ بلاک کر دیے گئے.
انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی گئی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے عہدے داران کے خلاف تحریک کو روکنے کے لیے کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا پولیس نے ابتدائی طور پر 72 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت میر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارا احتجاج پرامن ہے.
ہفتہ کے روز 14 ہزار سے زائد پولیس اہلکار سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کےآ زاد کشمیر پہنچ گئے ذرائع کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے وزیراعظم آ زاد کشمیر سردار فیصل راٹھور اور دیگر کمیٹی سے مذاکرات کے دوران 38 نکاتوں پر بات چیت ہوئی تھی جس میں سر فہرست کشمیر میں مہاجرین کی نشستوں پر خصوصا بات ہوئی ان 12 نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا.
جو منظور کر لیا گیا اب جب کہ الیکشن دوبارہ ا چکے ہیں تو پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون اس بات پر زور دے رہی ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستیں بحال ہونی چاہیے اور وہاں الیکشن ہو لیکن عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ جس نے الیکشن لڑنا ہے وہ آ زاد کشمیر میں ا کر الیکشن لڑ سکتا ہے جس پر عوامی ایکشن کمیٹی کے عہدے داران اور کارکن اور پیپلز پارٹی کی آ زاد کشمیر حکومت امنے سامنے آ چکی ہے

