ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں پیپلزپارٹی الیکشن میں کا میاب ہوگی ، وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور

مظفر آباد / اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے آئندہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہو گیا، پیپلزپارٹی ہی اگلے الیکشنز میں کامیابی حاصل کرے گی، فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد سب کو اس میں حصہ لینا چاہیے، آزاد کشمیر کے اندر اس وقت کا ماحول ریاست کے لیے مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل ڈائیلاگ کے ذریعے ہی نکلتا ہے، اس قبل بھی وفاقی اور آزاد کشمیر حکومت نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ طویل مذاکرات کیےفیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اس خطے کی اپنی ایک اہمیت اور حیثیت ہے، یہ بہت حساس ریاست ہے، اس خطے میں انتشار کا فائدہ ہمارا مخالف دشمن اٹھاتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں دیگر جماعتوں سے اتحاد ہو سکتا ہے، انتخابی اتحاد کا فیصلہ ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد کیا جائے گا۔

قبل ازیں اسلام آباد میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راتھوڑ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی رٹ کو کسی صورت چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور حالات بگڑنے کی صورت میں ہنگامی صورتحال کے نفاذ کا آپشن بھی زیر غور ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ریاست نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے نمٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ بعض عناصر “بلیک میلنگ کی سیاست” کر رہے ہیں، ان کے مطابق ہر بار مطالبات تسلیم ہونے کے بعد نئے مطالبات سامنے آ جاتے ہیں، جو نظامِ حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مذاکرات کے حق میں ہے، تاہم ریاستی نظام کو مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے حکومتی قیادت کے خلاف نامناسب زبان کا استعمال بھی قابلِ تشویش ہے۔

معاشی اور انتظامی امور کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے حقوق اور مراعات کا دیگر خطوں سے منصفانہ موازنہ ہونا چاہیے، ان کے مطابق گلگت بلتستان کے وزراء کی تنخواہیں آزاد کشمیر کے وزراء سے کئی گنا زیادہ ہیں، جبکہ بعض دیگر معاملات میں بھی عدم توازن پایا جاتا ہے۔

انہوں نے بجلی لوڈ اور سرمایہ کاروں کے واجبات سے متعلق مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ ایکشن کمیٹی کا مؤقف تضادات کا شکار ہے، کیونکہ ایک طرف مراعات کے خاتمے کی بات کی جا رہی ہے اور دوسری طرف مالی مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ آج اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس زرداری ہاؤس اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور آئندہ انتخابات پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ملاقات پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بھی طے ہے، جس میں وہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال اور انتخابی حکمت عملی سے آگاہ کریں گے، اس سلسلے میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت، بشمول آصف علی زرداری، کو بھی بریفنگ دی جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ چھ ماہ میں تعلیم، انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی ہے، جبکہ پسماندہ علاقوں میں اسکولوں، کالجوں اور عوامی سہولیات کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، انہوں نے زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل اور ریاستی استحکام حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور امن و امان کے قیام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔