اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی سے نکلنے کے حق میں ہیں اور اگر مولانا فضل الرحمان اس معاملے میں کردار ادا کرتے ہوئے کوئی متفقہ لائحہ عمل نکالتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین نے ملک اور کشمیر کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اور انہیں نشستوں سے محروم کرنا درست عمل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کشمیریوں کو تین مختلف حوالوں سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلی قسم وہ کشمیری ہیں جو گزشتہ 75 برس سے مقبوضہ کشمیر میں قربانیاں دے رہے ہیں اور جن کی پاکستان سے گہری وابستگی ہے۔ ان کے مطابق ان قربانیوں کو کسی بھی آزادی کی تحریک میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ دوسری قسم ان افراد کی ہے جنہوں نے 1947 کے دوران ہجرت کی اور جیلوں سمیت مختلف مشکلات کا سامنا کیا۔ ان مہاجرین کی نمائندگی اور نشستوں کے معاملے کو غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیسری کیٹیگری آزاد کشمیر کے رہائشیوں کی ہے جن کی اپنی الگ شناخت اور جدوجہد ہے، تاہم پہلی دو کیٹیگریز کے افراد کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خواجہ آصف کے مطابق بھارتی پنجاب اور دیگر علاقوں سے آنے والے مہاجرین نے بھی پاکستان میں آباد ہو کر نمایاں قربانیاں دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد اور وہاں دی جانے والی قربانیاں تاریخی طور پر بہت اہم ہیں، اور ان کا استحقاق بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ 1947 کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں جو قربانیاں دی گئی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے رہائشیوں کو نسبتاً کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کے حوالے سے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ وہ پہلے بھی اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بات کر چکے ہیں اور اگر تمام فریق اتفاق کریں تو مولانا فضل الرحمان کے کردار کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

