کویت سٹی (ویب ڈیسک) کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی شعبے میں تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے ، عرب میڈیا کے مطابق کویتی حکومت کی جانب سے معاہدے کی منظوری حکم نامہ نمبر 73 آف 2026 کے تحت دی گئی، جسے سرکاری گزٹ “کویت الیوم” میں شائع کر دیا گیا ہے۔
معاہدے کے متن کے مطابق یہ منظوری 11 جون 2023 کو کویت میں پاکستان اور کویت کے درمیان طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق ہے، جس کا بنیادی مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی روابط کو فروغ دینا اور فوجی تعاون کو مزید مؤثر بنانا ہے ، معاہدے کے تحت دونوں ممالک اپنے اپنے قوانین، ضوابط اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق فوجی تربیت، دفاعی تعلیم اور مسلح افواج کے درمیان تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک قائم کریں گے۔ اس کے علاوہ باہمی اتفاق رائے سے فوجی تربیت، لاجسٹک سپورٹ، فوجی اہلکاروں کے تبادلے، تکنیکی ماہرین کے تبادلوں، سائنسی و تکنیکی تعاون اور ملٹری انٹیلیجنس سمیت مختلف شعبوں میں اشتراک عمل کو فروغ دیا جائے گا۔
معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے دونوں ممالک سالانہ بنیادوں پر ایگزیکٹو پروٹوکولز اور مشترکہ پروگرام مرتب کریں گے، جبکہ مختلف سطحوں پر سرکاری وفود کے تبادلوں کے ذریعے دفاعی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی ، معاہدے کے مطابق عمل درآمد، رابطہ کاری اور نگرانی کے لیے ایک مشترکہ فوجی کمیٹی قائم کی جائے گی، جس کے اراکین دونوں ممالک کے وزرائے دفاع نامزد کریں گے۔ کمیٹی کم از کم سال میں ایک مرتبہ اجلاس منعقد کرے گی تاکہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
معاہدے میں خفیہ معلومات کے تحفظ کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے تحت کسی بھی کلاسیفائیڈ دستاویز، معلومات یا مواد کو دوسرے فریق کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد بھی رازداری کی یہ ذمہ داری برقرار رہے گی، مالیاتی انتظامات کے حوالے سے معاہدے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری دوروں پر آنے والے وفود کے اندرونِ ملک سرکاری سفر، رہائش اور ہنگامی طبی سہولیات کے اخراجات میزبان ملک برداشت کرے گا، جبکہ تعاون باہمی مفاد اور مساوات کے اصولوں پر استوار ہوگا۔
معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کی دفعات کسی بھی دوسرے بین الاقوامی معاہدے یا ذمہ داریوں پر اثرانداز نہیں ہوں گی۔ مزید یہ کہ معاہدے کی تشریح یا نفاذ سے متعلق پیدا ہونے والے کسی بھی اختلاف کو دونوں ممالک باہمی مشاورت سے حل کریں گے اور معاملہ کسی تیسرے فریق یا قومی و بین الاقوامی عدالت میں نہیں لے جایا جائے گا۔

