لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا اختیار ختم

لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے نادرا اور شہریت کے تنازعات پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے مشکوک شہریت کے مقدمات میں سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کردیا، جبکہ نادرا کے فیصلوں کے خلاف پہلے قانونی فورمز سے رجوع کرنا لازم قرار دہتے ہوئے نادار کی اپیل منظور کرلی گئی، لاہور ہائیکورٹ نے قومی شناختی کارڈز اور شہریت کے تنازعات سے متعلق ایک اہم اور نظیر بننے والا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مشکوک شہریت کے مقدمات میں براہِ راست سول عدالتوں یا رٹ پٹیشن کے ذریعے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں پہلے نادرا ویریفکیشن بورڈ اور پاکستان شہریت ایکٹ 1951 کے تحت دستیاب قانونی فورمز سے رجوع کرنا لازمی ہوگا، جسٹس محسن اختر کیانی نے نادرا کی سول نظرثانی درخواست پر 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے، عدالت نے سینیئر سول جج سیالکوٹ کے 19 جنوری 2017 اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سیالکوٹ کے 23 اگست 2017 کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے نادرا کی درخواست منظور کر لی۔

عدالت نے قرار دیا کہ سول عدالتوں کو متبادل قانونی فورمز سے رجوع کیے بغیر ایسے دعوے سننے کا اختیار حاصل نہیں ، فیصلے میں کہا گیا کہ جن افراد کی شہریت مشکوک قرار دی جائے، وہ پہلے نادرا ویریفکیشن بورڈ سے رجوع کریں، جبکہ اگر پاکستانی شہریت ثابت نہ ہو سکے تو پاکستان شہریت ایکٹ 1951 کے تحت وفاقی حکومت سے شہریت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہوگا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ شہریت کے دعووں میں والد یا دادا کی 1979 سے قبل پاکستان میں رہائش کے مستند ثبوت پیش کرنا لازمی ہوگا، اس مقصد کے لیے 1979 سے پہلے کے تعلیمی اسناد، ڈومیسائل، پاسپورٹ یا دیگر سرکاری ریکارڈ کو بنیادی شہادت قرار دیا گیا ہے ، فیصلے میں کہا گیا کہ جن مقدمات میں مقررہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، ان میں فریقین کو 30 دن کے اندر ضروری دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دی جائے، بصورت دیگر ایسے دعوے خارج کر دیے جائیں، یہ ہدایت مختلف عدالتوں میں زیر التوا تمام ایسے مقدمات پر بھی لاگو ہوگی۔

لاہور ہائیکورٹ نے مزید حکم دیا کہ نادرا ویریفکیشن بورڈز شہریوں کی درخواستوں کا فیصلہ 60 دن کے اندر کرنے کے پابند ہوں گے، عدالت نے وفاقی حکومت کو نادرا آرڈیننس میں ترمیم کرکے شہریت سے متعلق مقدمات کے لیے خصوصی دائرہ اختیار کی شق شامل کرنے کی بھی سفارش کی۔