اسلام آباد(احسان بخاری/سپیشل رپورٹر ) 41 کروڑ روپے کے سگریٹ کیس میں فیکٹری مالکان سے مبینہ طور پر بھاری نذرانے لینے اور علی ٹریڈنگ موٹر سائیکل کیس میں پانچ لاکھ روپے رشوت لینے والے سپرنٹنڈنٹ کسٹم سمیت دو انسپکٹرز کو ایف آئی اے نے عدالت پیش کرکے مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ لے کر تفتیش شروع کردی دوران تفتیش ایف آئی اے کو کسٹم کے ایک آفیسر کے ڈرائیور اور دیگر افسران کے بارے میں اہم شواہد ایف آئی اے کو فراہم کردیئے گئے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کسٹم کے (آئی اینڈ پی) انویسٹی گیشن ونگ میں تحقیقات سپرنٹنڈنٹ فخر گوندل‘ انسپکٹر شاہ زیب‘ کرسٹوفر وارث کو ایف آئی اے نے موٹر سائیکل کیس میں ملزمان سے ساز باز کرکے پچاس لاکھ روپر رشوت کا تقاضا کیا پچیس لاکھ پر معاملہ طے پاگیا پانچ لاکھ روپے رنگے ہاتھوں لیتے ہوئے شاہ زیب انسپکٹر کو گرفتار کرنے کے بعد سپرنٹنڈنٹ کرسٹو فر وارث کو گرفتار کرلیا دوران تفتیش ملزمان نے کلکٹریٹ آف کسٹم کے چند افسران اور ایک آفیسر کے ڈرائیور بارے آگاہ کردیا تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹم نے ملزم پارٹی سے مک مکا کیا تھا .
اوصاف کو ذرائع نے بتایا کہ اکتالیس کروڑ روپے کے سگریٹ سکینڈل میں بھی انسپکٹر شاہ زیب‘ کرسٹوفر اور فخر گوندل کے مبینہ طور پر موٹر وے سے پکڑے گئے سگریٹ کیس میں مقدمہ 22ملزمان کو پکڑا اور مبینہ مک مکا کے بعد گیارہ ملزمان کو چھوڑ دیا اور باقی گیارہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹم اسلام آباد اور کلکٹریٹ آف کسٹم پشاور نے اور ان لینڈ ریونیو کے چند افسران بھی کے پی کے میں سگریٹ فیکٹری مالکان جو کہ مختلف سیاسی خاندنوں کی ہیں سے مک مکا کرکے مبینہ طور پر اصل مالکان کو چھوڑ دیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ان لینڈ ریونیو پشاور اور اسلام آباد کے چند افسران بھی اس کاروبار میں ملوث ہیں تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جب کسٹم افسران کو پیش کیا گیا تو ایف آئی اے نے کہا کہ ملزمان سے تفتیش کرنی ہے کسٹم میں ان کے ساتھ کونسے افسران یا ماتحت ملازمین ملوث ہیں عدالت نے دو روزہ ریمانڈ پر ملزمان کو ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

