اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نئی نسل کے اخلاق و کردار کی تعمیر سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں کرنا ہوگی ، قومی سیرت النبی محمد مصطفیٰ ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قومی سیرت النبی ﷺ کانفرنس پاکستان کی قابلِ فخر قومی روایت ہے، ربیع الاول کی مناسبت سے اس عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ سیرتِ طیبہ ﷺ اخلاق و کردار کا کامل ترین نمونہ ہے، ہمیں اپنی زندگیوں میں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کو اپنانا چاہیے۔ نئی نسل پاکستان کی امید اور مستقبل ہے، اس کی تعلیم و تربیت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے ، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم جیسی نسل تیار کریں گے، پاکستان کا مستقبل بھی ویسا ہی ہوگا، اس لیے نوجوانوں کی کردار سازی، تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ ہمارے لیے عقل، حکمت، صبر، برداشت اور دوراندیشی کا عملی نمونہ ہے، نئی نسل کے اخلاق و کردار کی تعمیر سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں کرنا ہوگی ، ان کا کہنا تھا کہ صلح حدیبیہ ہمیں عقل، حکمت اور دوراندیشی کا درس دیتی ہے، جبکہ طائف کا واقعہ صبر و برداشت کی عظیم مثال ہے، نبی کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کرکے معاشرے میں اخوت اور اتحاد کی بنیاد مضبوط کی۔
وزیراعظم نے کہا فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے اپنے مخالفین کے لیے عام معافی کا اعلان کرکے عفو و درگزر کی عظیم مثال قائم کی، خطبہ حجۃ الوداع انسانوں کی برابری، مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کا عظیم منشور ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ
شہباز شریف کا کہنا تھا اہل مکہ نبی کریم ﷺ کو صادق اور امین مانتے تھے، جبکہ آپ ﷺ کا عظیم کردار آپ ﷺ کا ایک عظیم معجزہ ہے، ہمیں سیرت النبی ﷺ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے معاشرے میں اخلاق، برداشت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل ملک کا مستقبل ہے، اس لیے اس کے اخلاق و کردار کی تعمیر سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کانفرنس میں انعامات حاصل کرنے والے علما، سکالرز اور نعت خواں حضرات کو مبارکباد بھی پیش کی۔

