اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کمپٹیشن سے متعلق مسائل پر کھلی سماعت منعقد کی، جس میں صارفین، ریگولیٹرز، سرکاری اداروں اور رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کے نمائندوں نے کمیشن کے سامنے اپنے خدشات، شکایات اور مؤقف پیش کیے۔
سماعت میں صارفین اور سرمایہ کاروں کو اپنے تجربات براہِ راست کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا، جبکہ ڈویلپرز، بلڈرز، رئیل اسٹیٹ پروفیشنلز، انڈسٹری ایسوسی ایشنز اور وفاقی و صوبائی ریگولیٹری اداروں کے نمائندوں نے بھی اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ، گمراہ کن مارکیٹنگ، غلط یا گمراہ کن دعوے، پوشیدہ چارجز اور منصوبوں کی منظوری سے متعلق غلط بیانی اہم خدشات کے طور پر سامنے آئے۔
کھلی سماعت کمیشن کے بینچ، چیئرمین سی سی پی فرید احمد تارڑ اور ممبر بشریٰ ناز ملک نے کی ، سماعت میں نیب، سی ڈی اے، آر ڈی اے، ایف جی ای ایچ اے، وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس، ایس ای سی پی، پی پی آر اے، پی ٹی اے، آئی پی او پاکستان، پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی، آئی سی ٹی انتظامیہ اور دفتر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سینئر حکام کے علاوہ بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز، رئیل اسٹیٹ کاروبار سے وابستہ نمائندوں اور صارفین نے شرکت کی۔
سماعت کا آغاز کرتے ہوئے چیئرمین سی سی پی فرید احمد تارڑ نے کہا کہ اس کا مقصد تمام متعلقہ فریقوں کو سننا ہے تاکہ کمیشن رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کمپٹیشن سے متعلق مسائل پر جامع مؤقف تشکیل دے سکے ، انہوں نے کہا، رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری ایک عام شہری کے لیے ایک بہت بڑا مالی فیصلہ ہوتا ہے۔ اگر یہ فیصلہ جھوٹے دعوؤں، گمراہ کن اشتہارات، غیر ظاہر شدہ چارجز یا منصوبوں کی منظوری اور خصوصیات کے بارے میں غلط معلومات کی بنیاد پر کیا جائے تو صارفین کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھلی سماعت کا مقصد بار بار سامنے آنے والے مسائل کی نشاندہی، مختلف فریقوں کے مؤقف کو سننا اور ایسے معاملات کا جائزہ لینا ہے جن کے لیے وسیع تر ریگولیٹری، پالیسی یا آگاہی اقدامات کی ضرورت ہو سکتی ہے ، صارفین نے ڈویلپرز، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور رئیل اسٹیٹ کاروبار سے متعلق مبینہ گمراہ کن طریقوں کے بارے میں اپنے تجربات بیان کیے، جبکہ انڈسٹری کے نمائندوں نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کمپٹیشن ایکٹ سمیت قابلِ اطلاق قوانین کی پابندی کے عزم کا اظہار کیا۔
ریگولیٹری اور سرکاری اداروں کے نمائندوں نے بھی اپنے متعلقہ کردار پر روشنی ڈالی اور صارفین اور کمپیٹیشن کو متاثر کرنے والے مسائل کے حل کے لیے بہتر ادارہ جاتی رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔
کھلی سماعت کے دوران موصول ہونے والی آراء، خدشات اور سفارشات کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کمپیٹیشن سے متعلق کمیشن کی رائے کی تیاری میں زیرِ غور لایا جائے گا۔ سی سی پی نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ایک مسابقتی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے لیے درست اور قابلِ تصدیق معلومات، صارفین کا باخبر انتخاب اور منصوبوں کی حقیقی خصوصیات اور میرٹ کی بنیاد پر کمپٹیشن ناگزیر ہیں۔

