کوئٹہ (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کو پاکستان کے مؤقف کی اہم قانونی اور سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے نے واضح کردیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اس کی قانونی پابندی کا پابند ہے، فیصلے سے پاکستان کے دیرینہ آبی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم قانونی پیش رفت ہوئی ہے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ محض ایک دوطرفہ معاہدہ نہیں بلکہ ملک کے آبی وسائل اور قومی مفادات کے تحفظ سے جڑا ایک اہم بین الاقوامی قانونی انتظام ہے، عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری ہر فریق کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیصلے سے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری، عالمی قانون کی بالادستی اور ریاستوں کے درمیان طے شدہ معاہدوں کے احترام کے اصول مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی، قانونی اور سفارتی ذرائع بروئے کار لاتا رہے گا، انہوں نے عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تائید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پیشرفت سے خطے میں پانی سے متعلق معاملات کو بین الاقوامی قانون اور طے شدہ معاہدوں کے مطابق حل کرنے کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت کا برقرار رہنا پاکستان کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے اور اس سے مستقبل میں آبی تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی قانونی اصولوں کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔

