اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیراعظم محمد شہباز شریف نےکہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل کا مکمل ادراک ہے اور وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے اندر ان مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ پی ایم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں نے ہفتے کو یہاں ملاقات کی جس میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل بارے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، ملاقات میں عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں اور گورننس سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے ، وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل کا مکمل ادراک ہے اور وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے اندر ان مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختو نخوا میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کا حل وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ شرکا نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ خیبر پخونخوا کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، گورننس نام کی کوئی چیز نہیں ، صحت، تعلیم، انفرا سٹرکچر اور عوامی فلاح کے حوالے سے صوبائی حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی موجود نہیں اور عوامی مسائل کی طرف خیبر پختو نخوا حکومت کی کوئی توجہ نہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح بنائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ہری پور میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات میں میرٹ پر لیپ ٹاپ تقسیم کئے، ان نوجوانوں سے مل کر خوشی ہوئی، یہی نوجوان ملک کے مستقبل کا اثاثہ ہیں،ان کے لئے آئندہ بھی میرٹ پر لیپ ٹاپ دینے کی پالیسی جاری رہے گی تاکہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخواہ میں وفاق کے زیر اہتمام ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جو پشاور کا دورہ کرکے اور عوامی نمائندوں سے مل کر ان منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لے گی۔
ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاللہ تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ ، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، بابر نواز ایم این اے، ثمر بلور ایم این اے، اختیار ولی (کوآرڈینیٹر وزیراعظم)، مرتضیٰ جاوید عباسی سابق ڈپٹی سپیکر، زاہد خان سابق سینیٹر، ڈاکٹر عباداللہ ایم پی اے، پیر صابر شاہ، سردار مشتاق سابق ایم این اے، شاہ جی گل آفریدی سابق ایم این اے، شہاب الدین خان رحمت سلام خٹک اور بہرہ مند تنگی بھی موجود تھے۔

