کوئٹہ (بیورو رپورٹ)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں شہید میجر انور کاکڑ کی رہائش گاہ کا دورہ کیا، دونوں رہنماؤں نے شہید کی والدہ، بھائیوں اور کمسن بیٹوں سے ملاقات کی اور ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کے بزدلانہ حملے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے بہادر سپوت کی عظیم قربانی کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری بلوچستان اور آئی جی پولیس بلوچستان بھی ہمراہ تھے۔
محسن نقوی اور میر سرفراز بگٹی نے شہید کے ایصالِ ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی اور پسماندگان کے لئے صبر و استقامت کی دعا کی۔ملاقات کے دوران شہید میجر انور کاکڑ کی والدہ کے بلند حوصلے نے سب کے دل جیت لئے۔ انہوں نے فخر سے کہا کہ میرا بیٹا شیر تھا جو وطن پر قربان ہو گیا، میرے باقی دو بیٹے بھی ملک کے لئے حاضر ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید کے دوسرے بیٹے کا بھی ایچی سن کالج میں داخلہ کرانے کا اعلان کیا اور بچوں کو پیار و دلاسہ دیا ، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے شہید کے بھائی خدائیداد خان کو سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ کوئٹہ کے ایک سکول کو شہید میجر انور کاکڑ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید کی والدہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ پاکستان کے بہادر بیٹے کی باہمت والدہ ہیں اور پوری قوم کو آپ پر فخر ہے، آپ کا عزم ہی ہماری اصل قوت ہے، شہدا کا خون وطن کے تحفظ کی ضمانت ہے اور میجر انور کاکڑ جیسے سپوت ہمارے سر کا تاج ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ میجر انور کاکڑ نے وطن کے لئے قیمتی جان نچھاور کر کے شہادت کا بلند رتبہ پایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قوم اپنے ہیروز کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولے گی اور بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔واضح رہے کہ میجر انور کاکڑ کچھ عرصہ قبل کوئٹہ میں بزدلانہ دھماکے کے دوران دفاعِ وطن میں شہید ہوئے تھے۔

