اسلام آباد (کرائم رپورٹر )اسلام آباد پولیس نے جسٹس کمیٹی کے اجلاس میں سال 2025 کی مجموعی کارکردگی رپورٹ پیش کر دی سال 2025 میں جرائم میں نمایاں کمی، سکیورٹی اور شہری سہولیات میں تاریخی بہتری واقع ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصررضوی کی سربراہی میں اسلام آباد پولیس نے جسٹس کمیٹی کے اجلاس میں سال 2025 کی مجموعی کارکردگی رپورٹ پیش کر دی، جس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری، جرائم کی شرح میں واضح کمی اور شہریوں کو جدید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا،رپورٹ کے مطابق فیڈرل پرزن اسلام آباد کا 76 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور سال 2026 کے دوران جیل کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا، جبکہ فیڈرل پرزن اسلام آباد کے پہلے سپرنٹنڈنٹ آف پرزنز کی تعیناتی بھی عمل میں آ چکی ہے،اسلام آباد پولیس کی موثر حکمت عملی کے باعث وفاقی دارالحکومت میں پرتشدد جرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی،دن اور رات کے اوقات میں رہائشی و کمرشل علاقوں میں بھرپور سکیورٹی اقدامات کے باعث شہر بھر میں کاروباری اور معمولاتِ زندگی بلا تعطل جاری ہیں،نمبیو پبلک سیفٹی انڈیکس کے مطابق 68.6 فیصد اسکور کے ساتھ اسلام آباد کو محفوظ ترین شہر قرار دیا گیا، جو لندن، نیویارک اور پیرس جیسے عالمی شہروں سے بھی بہتر درجہ رکھتا ہے، یکم جنوری 2024 سے 31 دسمبر 2025 تک مجموعی جرائم میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ “پکار-15 “پر موصول ہونے والی جرائم سے متعلق کالز میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی .
سال 2025 کے دوران اسلام آباد پولیس نے 1552 عدالتی مفروران، 2062 اشتہاری اور 990 عادی مجرمان کو گرفتار کیا،جدید ڈیجیٹل سرویلنس، اے آئی بیسڈ سافٹ ویئرز، سی ڈی آرز کے تجزیے، ہوٹل آئی، ٹریول آئی، کرایہ داری اندراج سسٹمز اور خصوصی سرچ آپریشنز کے ذریعے موثر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں،اسی عرصے میں 1594 مقدمات میں 1395 ملزمان کی گرفتاری کے ساتھ 536 ملین روپے مالیت کا مال مسروقہ برآمد کیا گیا، غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر 2375 ملزمان کو گرفتار کر کے 2336 مقدمات درج کیے گئے، جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور ایمونیشن برآمد ہوا،منشیات کے خلاف کارروائیوں میں 1889 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے چرس، ہیروئن، آئس، افیون اور شراب کی بڑی مقدار برآمد کی گئی، اسی طرح پتنگ بازی، بھیک مانگنے اور دیگر سماجی جرائم کے خلاف بھی موثر اقدامات کیے گئے،اسلام آباد پولیس نے سال 2025 میں دہشت گردی، قتل، اغوا، ڈکیتی اور سنگین جرائم کے متعدد ہائی پروفائل کیسز کو کامیابی سے حل کر کے ملوث ملزمان کو گرفتار کیا اور مجاز عدالتوں میں چالان پیش کیے،امن و امان کے قیام کے لیے 351 وی وی آئی پی موومنٹس، ملکی و غیر ملکی وفود، پارلیمانی اجلاسوں، مظاہروں، قومی و بین الاقوامی ایونٹس سمیت ہزاروں تقاریب کی سکیورٹی کو موثر انداز میں یقینی بنایا گیا،شہر بھر میں خودکار ںنظام سے لیس جدید ناکہ جات پر نمبر پلیٹ اور چہروں کی شناخت کے حامل کیمرے نصب کیے گئے .
پولیس افسران کو باڈی وارن کیمرے اور جدید وائرلیس سسٹمز فراہم کیے گئے، جس سے سکیورٹی کے ساتھ ساتھ ٹریفک روانی میں بھی بہتری آئی،اسلام آباد پولیس کے 13 جدید خدمت مراکز سے سال 2025 میں 7 لاکھ 39 ہزار 621 شہریوں نے استفادہ کیا، جبکہ خواتین کے تحفظ کے لیے آن لائن وویمن پولیس اسٹیشن 24/7 فعال رہا،سیف سٹی اسلام آباد کے جدید اے آئی بیسڈ نظام، سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرونز اور ڈیٹا اینالیسس کی بدولت جرائم کے ہاٹ اسپاٹس پر 70 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسٹس کمیٹی نے اسلام آباد پولیس کی مجموعی کارکردگی رپورٹ کوبھی سراہا جبکہ اسلام آباد پولیس کی یہ کارکردگی شہریوں کے تحفظ، جدید پولیسنگ اور قانون کی بالادستی کے عزم کا واضح ثبوت ہے.

