اسلام آباد(سپیشل رپورٹر ) عدالت کا پولیس افسران کو شوکاز نوٹس، ملزم کی فوری رہائی کا حکماسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پولیس کی جانب سے عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی پر سخت نوٹس لیتے ہوئے تھانہ مارگلہ کے ایس ایچ او اور ایس پی سٹی اسلام آباد کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ایڈیشنل سیشن جج عبدالحفیظ میمن نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ عدالت نے ملزم بابر علی کو 30 جنوری 2026 کو مقدمہ نمبر 41/26 میں عبوری قبل از گرفتاری ضمانت دی تھی، جو تھانہ مارگلہ میں درج ہے۔ عدالت نے ملزم کو 1 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کی شرط پر ضمانت منظور کی تھی۔
عدالتی حکم کے مطابق ملزم نے ضمانت کی شرائط پوری کیں، جس کے بعد 31 جنوری 2026 کو روبکار جاری کی گئی اور پولیس کو ملزم کو گرفتار نہ کرنے اور تفتیش میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔تاہم عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملزم عدالت کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے تفتیش کے لیے ایس ایچ او کے سامنے پیش ہوا، مگر اس کے باوجود پولیس نے اسے غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں ملزم کو ایس پی سٹی اسلام آباد کے حوالے کیا گیا، جنہوں نے بھی ملزم کو رہا نہیں کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ایس ایچ او عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا پابند تھا، لیکن اس کے برعکس کارروائی کی گئی، جو عدالتی حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔عدالت نے دونوں پولیس افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم بابر علی کو فوری طور پر غیر قانونی حراست سے رہا کریں اور 3 فروری 2026 کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہو کر وضاحت کریں کہ ان کے خلاف دفعہ 174 ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے۔یہ حکم نامہ 2 فروری 2026 کو سنایا گیا۔
یاد رہے کہ مارگلہ پولیس نے عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے عدالت سے ضمانت ہونے کے باوجود ملزم کو دو دن سے تھانے میں بند کردیا‘ والد نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں وفاقی پولیس نے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اس کے بیٹے کو دو روز سے عبوری ضمانت کے باوجود تھانے میں بند کررکھا ہے‘ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایس پی سٹی ایاز اور ایس ایچ او تھانہ مارگلہ عمران منیر نے لاقانونیت‘ فسطائیت‘ جبر اور ظلم کی تاریخ رقم کردی۔
نور محمد ولد محمد خان نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور وزیراعظم پاکستان سے بذریعہ درخواست اپیل کی کہ ان کا بیٹا جو بطور ڈرائیور کام کرتا ہے کا جمعرات کو نیو بلیو ایریا اٹک پٹرول پمپ کے پاس ایک موٹر سائیکل کے ساتھ ایکسیڈنٹ ہوا بعد ازاں نور محمد کے بیٹے بابر ولی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد کی عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کی اور روبکار ملنے پر 31جنوری بروز ہفتہ کو تھانہ حاضر ہوا اور شامل تفتیش ہوا جس پر ایس پی سٹی اور ایس ایچ او نے ضمانت ہونے کے باوجود اس کو تھانہ مارگلہ میں ناجائز حراست میں رکھا اور دو دن گزر جانے پر بھی نہ چھوڑا بلکہ اس پر شدید دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے مالکان کے خلاف بیان دے تاکہ پولیس کی حسب روایت چاندی لگ سکے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ضمانت اور عدالتی حکم کے باوجود بابر علی کو حراست میں رکھنا شدید سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ کہیں جوڈیشل سسٹم مکمل ناکارہ تو نہیں ہوچکا۔ عدالتی احکامات کو اس طرح روندنا ایس پی کی شخصیت پر بھی کئی سوال کھڑے کررہا ہے بابر ولی کے والد نور محمد نے درخواست دی ہے کہ ان کو فوری انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔ جب ایس ایچ او تھانہ مارگلہ سے رابطہ کیاگیا تو ان کا کہنا تھاکہ ایس پی سٹی نے کہا ہے کہ عدالتی حکم کا کوئی مسئلہ نہیں۔

