اسلا م آباد (سپیشل رپورٹر) پاکستان کے پرائم منسٹر شہباز شریف نے ایران کے مذاکرات کاروں کی ٹیم کے ساتھ بھی ملاقات کر لی۔ اس سے پہلے پرائم منسٹر شہباز شریف نے امریکہ کے مذاکرات کاروں کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ان دو ملاقاتوں کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز کروانا ہے۔ 24نیوز نے 10 اپریل کو علی الصبح اپنی خبر میں بتایا تھا کہ ایران اور امریکہ کے مذاکرات کاروں کے درمیان مذاکرات کی غیر رسمی ابتدا پاکستان کے پرائم منسٹر شہباز شریف خود کریں گے۔ اور اولین پیام بری / میڈئیشن خود شہباز شریف کریں گے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس کام میں وزیر اعظم کی معاونت کریں گے۔۔ شہباز شریف دونوں فریقوں سے باری باری مل کر ان کا نکتہ نظر معلوم کریں گے اور دوسرے فریق تک پہنچائیں گے۔
اسلام آباد مذاکرات شروع ہوتے ہی پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس س اور ان کے ساتھ آنے والے مذاکرات کاروںں سے ملاقات کی جن میں خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے معاونین میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی تھے ، اسلام آباد میں آج شام پرائم منسٹر شہباز شریف کی ایران کے مذاکرات کاروں کی ٹیم کے ساتھ اہم ملاقات ہوئی۔ ایرانی ٹیم مین وزیر خارجہ عباس عراقچی ، باقر قالیباف اور دیگر معاونین شامل تھے۔ اس ملاقات میں وزیراعظم شہبازشریف نے یقین دلایا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے مذاکرات میں امن کے لئے اپنا مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس ملاقات میں وزیر اعظم شہباز شریف کی معاونت وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔ العربیہ نیوزنے اس ملاقات کے متعلق رپورٹ میں بتایا کہ اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے.
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے مزید کہا کہ “اس ملاقات کے اختتام پر ایران-امریکہ کے لیے انتظامات کی وضاحت کی جائے گی۔” ایرانی وفد نے اس سے پہلے رات گئے اسلام آباد پہنچنے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر سے ملاقات کی تھی۔ ایک ثالث کے طور پر پاکستان کی سابقہ کوششوں کو نوٹ کرتے ہوئے، ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ” چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر سے ملاقات کے بعد، ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ پیغامات کا تبادلہ ہوا۔” فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ بھی آج ہفتہ کو ان کی اسلام آباد آمد کے وقت ان سے میٹنگ کی ، جو امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے الگ سے وینس سے ملاقات کی، اس ملاقات کے ضمن میں العربیہ نیوز کے مطابق پرائم منسٹر شہباز شریف کے دفتر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات “شروع” ہو چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جیسے ہی آج اسلام آباد مذاکرات شروع ہوئے، پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امریکہ کے نائب صدر محترم جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔ “وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کی جانب پیش رفت کے لیے دونوں فریقوں کی سہولت کاری جاری رکھنے کا منتظر ہے۔” ایرانی ٹیم کے ساتھ ملاقات سے پہلے پرائم منسٹر شہباز شریف نے امریکی ٹیم کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ اس طرح پاکستان کے پرائم منسٹر نے ایک دوسرے سے بر سر پیکار متحارب فریقوں کے درمیان مصالحت کروانے کا اہم فرض وزیراعظم کی اعلیٰ ترین سطح پر ذمہ داری کے ساتھ نبھانے کی ابتدا کر دی ہے۔ امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں کے ساتھ ابتدائی ملاقاتوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اپنے بنیادی حکومتی فرائض سنبھالنے میں مصروف ہو جائیں گے تاہم وہ ہمہ وقت مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ رہیں گے اور اسحاق ڈار کی سرگردگی میں سرگرم پاکستانی مصالحت کاروں کے ساتھ رابطہ میں رہیں گے۔

