تعلیمی وزارت اور آئی سی سی آئی کا مارکیٹ پر مبنی نصاب تیار کرنے پر اتفاق، نوجوانوں کو نوکری کے بجائے روزگار پیدا کرنے والا بنانے کا عزم

اسلام آباد(کامرس رپورٹر) وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مشترکہ طور پر ایک جامع نظام وضع کرنے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت مارکیٹ پر مبنی ایسا نصاب تیار کیا جائے گا جو پاکستان کے نوجوانوں کو صرف ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار فراہم کرنے والا بنائے گا یہ اتفاقِ رائے بدھ کے روز وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محترمہ وجیہہ قمر کے آئی سی سی آئی کے دورے کے موقع پر ہوا، جہاں پہنچنے پر چیمبر کی قیادت اور اراکین نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں جانب سے اس مقصد کے حصول کیلئے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے اور فوکل پرسنز مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مستقل رابطہ اور مؤثر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وجیہہ قمر نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط کی فوری ضرورت پر زور دیا اور کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے قابلِ عمل اور ٹھوس تجاویز پیش کرے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی منظرنامے میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ باہمی تعاون سے ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جو پاکستانی نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کریں تاکہ وہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کیلئے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کمانے کے قابل ہو سکیں وزیر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ پیشہ ورانہ تربیت، بین الاقوامی معیار کی اسناد اور مہارتوں کی ترقی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو عالمی منڈیوں کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کیلئے سرکاری اور نجی شعبوں کو مشترکہ طور پر جدید تربیتی فریم ورک اور سرٹیفکیشن نظام وضع کرنا ہوگا۔

اس موقع پر اسلام چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے اکیڈیمیا اور صنعت کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ چیمبر مارکیٹ پر مبنی نصاب کی تیاری اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے آگاہی سیشنز کے انعقاد کیلئے بھرپور کردار ادا کرے گا انہوں نے معاشی تنوع اور پائیدار ترقی کیلئے مسلسل رابطے، باقاعدہ مشاورت اور پالیسیوں کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اعتماد سازی اور مستقل معاشی پالیسیوں کا ہونا ناگزیر ہے آئی سی سی آئی فاؤنڈر گروپ کے چیئرمین طارق صادق نے کہا کہ جدید صنعتوں اور عالمی منڈیوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اعلیٰ مہارت یافتہ افرادی قوت کی دستیابی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں کو روایتی تدریسی ماڈلز پر انحصار کرنے کے بجائے عملی تعلیم، جدت اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ پر توجہ دینی چاہیے۔

آئی سی سی آئی کے سابق صدر میاں اکرم فرید نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا انحصار ایسی فنی مہارت رکھنے والی افرادی قوت کی تیاری پر ہے جو عالمی معیار کے مطابق مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ ووکیشنل ٹریننگ اداروں کو صنعتی ضروریات اور جدید عالمی ٹیکنالوجی کے مطابق جدید خطوط پر استوار کیا جانا چاہیے سابق صدر میاں شوکت مسعود نے نوجوانوں کیلئے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تکنیکی تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خود روزگاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے اور روایتی روزگار پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری، سینئر اراکین ڈاکٹر محمد عثمان اور اعزاز محمد، سیکریٹری جنرل غلام مرتضیٰ، ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اسحاق سیال اور دیگر شرکاء نے بھی انٹرایکٹو سیشن کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا .