چیئرپرسن پیمرا کی تقرری عدالت میں چیلنج، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فریقین کو نوٹس

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرپرسن پیمرا امبرین جان کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیئرپرسن پیمرا، سیکرٹری اطلاعات و نشریات اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے، عدالت نے امبرین جان کو بطور چیئرپرسن پیمرا کام کرنے سے روکنے کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے مؤقف طلب کیا ہے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہری سہیل سجاد رانا کی درخواست پر جاری حکم نامے میں کہا کہ متعلقہ فریقین آئندہ سماعت پر عدالت کو جواب جمع کرائیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 8 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق امبرین جان کی بطور چیئرپرسن پیمرا تعیناتی 13 فروری کو عمل میں آئی، جبکہ اس عہدے کے لیے 10 اکتوبر 2025 کو اشتہار جاری کیا گیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 17 اکتوبر کو تشکیل دی گئی سلیکشن کمیٹی میں اس وقت کی سیکرٹری اطلاعات و نشریات امبرین جان بھی شامل تھیں۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق امیدواروں کی درخواستوں کی جانچ پڑتال (سکروٹنی) امبرین جان کی نگرانی میں کی گئی، حالانکہ وہ خود بھی اسی عہدے کی امیدوار تھیں، وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ اپنے ہی نام کی سکروٹنی کے عمل میں شامل ہونا مفادات کے واضح ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے زمرے میں آتا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک جانب امبرین جان چیئرپرسن پیمرا کے عہدے کے لیے امیدوار تھیں جبکہ دوسری جانب وہ سکروٹنی کے عمل کا حصہ بھی تھیں، جس سے تقرری کے عمل کی شفافیت پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ تعیناتی کا عمل سپریم کورٹ کے 2018 اور 2022 کے فیصلوں میں طے کردہ اصولوں کے برعکس انجام دیا گیا، لہٰذا اس تقرری کا عدالتی جائزہ لیا جانا ضروری ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرپرسن پیمرا، سیکرٹری اطلاعات و نشریات اور دیگر متعلقہ فریقین کو 8 جولائی کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔