ایران وعدوں پر قائم رہے تو پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے دی گئی 60 روزہ مدت کوئی سخت یا آخری ڈیڈ لائن نہیں ہے، جبکہ ایران کے منجمد فنڈز کی واپسی کو اس کے رویے اور معاہدے پر عمل درآمد سے مشروط قرار دیا ہے، اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے تقریباً 300 ارب ڈالر کے فنڈز منجمد کر رکھے ہیں اور مناسب وقت آنے پر یہ رقم واپس کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اپناتا ہے تو پابندیوں میں نرمی اور مالیاتی فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیشرفت ممکن ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ تو ایٹم بم تیار کرے گا اور نہ ہی اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری ذخائر اور متعلقہ امور پر تکنیکی سطح کی بات چیت بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکی فوج کچھ عرصے تک خلیجی خطے میں موجود رہے گی تاکہ علاقائی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے، انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی قیادت مجوزہ معاہدے سے مطمئن ہے اور اس پیشرفت کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکراتی عمل میں پاکستان اور قطر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے بات چیت کو آگے بڑھانے اور فریقین کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران اپنے وعدوں پر قائم رہتا ہے اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور پابندیوں کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔