فیئر ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی کا الزام، وقار الدین سید عدالت پہنچ گئے

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سابق ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) وقار الدین سید نے اپنے خلاف جاری محکمانہ انکوائری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، درخواست میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذریعے وفاقی حکومت، وزارت داخلہ اور انکوائری افسر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وزیراعظم کی منظوری سے شروع کی گئی محکمانہ انکوائری کے دوران قانونی تقاضوں اور فیئر ٹرائل کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔

درخواست کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 3 جون 2026 کو چارج شیٹ اور الزامات کی تفصیلات جاری کیں جبکہ چارج شیٹ انہیں 5 جون 2026 کو موصول ہوئی، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ قواعد کے تحت تحریری جواب جمع کرانے کے لیے 14 دن کا قانونی وقت دیا جانا چاہیے تھا۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ الزامات کے دفاع کے لیے متعلقہ ریکارڈ، دستاویزی ثبوت اور رپورٹس فراہم کرنے کی درخواست کی گئی، تاہم بارہا درخواستوں کے باوجود مطلوبہ ریکارڈ مہیا نہیں کیا گیا۔ مزید کہا گیا ہے کہ تحریری جواب جمع کرانے کی مقررہ مدت ختم ہونے سے قبل ہی گواہان کو بیانات ریکارڈ کرانے کے نوٹس جاری کر دیے گئے، جو قانونی طریقہ کار کے منافی اور قبل از وقت کارروائی ہے۔

وقار الدین سید نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری افسر کی تبدیلی کے لیے دی گئی درخواست تاحال زیر التواء ہے، اس کے باوجود انکوائری کارروائی جاری رکھی گئی، درخواست کے مطابق انکوائری افسر نے 16 جون 2026 کو گواہان اور شواہد ریکارڈ کرانے کے لیے نوٹس جاری کیے، درخواست میں یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا ہے کہ انکوائری افسر نے اپنی آزادانہ حیثیت کے بجائے نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے لیٹر ہیڈ پر نوٹس جاری کیے، جو قانونی طور پر ایک نقص ہے، مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ انکوائری کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر کو مقام مقرر کرنا دباؤ اور اثراندازی کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ جاری انکوائری کارروائی آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ ٹرائل اور شفاف کارروائی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ انکوائری افسر کی تبدیلی اور مطلوبہ ریکارڈ کی فراہمی تک محکمانہ انکوائری، گواہان کے بیانات اور حتمی رپورٹ کی کارروائی کو روکا جائے۔ مزید درخواست کی گئی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو انکوائری افسر کی تبدیلی کی درخواست پر مقررہ مدت میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی جائے۔

درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ آرٹیکل 10 اے کے تقاضوں کے مطابق ایک غیر جانبدار انکوائری افسر مقرر کرنے اور انکوائری کے لیے غیر جانبدار مقام کے تعین کا حکم جاری کیا جائے۔