مظفرآباد (بیورو رپورٹ) آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے مرحلے کے دوران مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کی نامزدگی پر اختلافات سامنے آگئے ہیں ، پارٹی کے بانی رہنماؤں اور اہم شخصیات کی جانب سے وزیرِاعظم کے انتخاب میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں ، ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم کے انتخاب میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دونوں رہنما مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے بانی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں ، شاہ غلام قادر 2021 سے مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2021 کے بعد جماعت کو آزاد کشمیر بھر میں منظم اور متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ، 2021 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر اسمبلی میں صرف 4 نشستیں حاصل کرسکی تھی، تاہم 2026 کے انتخابات میں پارٹی نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 32 نشستوں کے ساتھ اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کی حیثیت حاصل کرلی۔
دوسری جانب شاہ غلام قادر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں میرواعظ یوسف شاہ کے استعفے کا حوالہ دیتے ہوئے ماضی کا ایک واقعہ بھی بیان کیا ، شاہ غلام قادر کے مطابق میرواعظ یوسف شاہ نے ایک بند لفافے کے ذریعے اس وقت کے جوائنٹ سیکرٹری وزارتِ امور کشمیر کو مسلم کانفرنس کی صدارت سے استعفیٰ بھجوایا تھا۔ ان کے مطابق اگلے روز جوائنٹ سیکرٹری وزارتِ امور کشمیر مظفرآباد پہنچے اور میرواعظ یوسف شاہ سے استعفے کی وجہ دریافت کی .
شاہ غلام قادر کے مطابق میرواعظ یوسف شاہ نے جواب دیا کہ “میں دستانہ نہیں بن سکتا ، آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی واضح اکثریت کے بعد حکومت سازی کے لیے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کا انتخاب اہم مرحلہ بن چکا ہے ، پارٹی کے اندر سامنے آنے والے اختلافات کے باعث وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے پر سیاسی حلقوں کی نظریں آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

