پاکستان کی ایران امریکا تنازع کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششیں جاری، مفاہمتی عمل ناکام نہیں ہوا. دفتر خارجہ

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان کی مفاہمتی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ ان کے مطابق پاکستان دونوں فریقوں کو مذاکرات کی جانب واپس لانے اور تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جب ایران اور امریکا جارحیت کے بجائے مذاکرات کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے بات چیت کی طرف واپس آئیں گے تو پاکستان مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔

مکہ معاہدے کی کمیٹی کا اجلاس :

طاہر اندرابی نے بتایا کہ 31 اگست کو مکہ معاہدے کے تحت قائم کمیٹی کا اجلاس استنبول میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے باہمی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا، انہوں نے کہا کہ اس تعاون کا سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا، جبکہ پاکستان آئندہ تین سال تک سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری انجام دے گا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مکہ معاہدے کا نام تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ مختلف زبانوں، بالخصوص عربی، ترکی اور انگریزی میں اس کے نام کے استعمال سے متعلق معاملہ ہے۔

سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف :

ترجمان دفتر خارجہ نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ہیگ میں بین الاقوامی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی واضح تائید کرتا ہے، جسے پاکستان مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے فیصلے کو مسترد کرنا بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے احترام کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بھارت اپنی سہولت کے مطابق عالمی اداروں کے فیصلوں کو قبول یا مسترد نہیں کرسکتا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق عدالت کا فیصلہ واضح ہے اور اس کے باوجود اسے مسترد کرنا بھارت کے لیے ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس حوالے سے معلومات نہیں کہ سندھ طاس معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی کوئی ٹیم پاکستان کا دورہ کررہی ہے یا نہیں۔

افغانستان کے معاملے پر دفتر خارجہ کی وضاحت :

افغانستان سے متعلق سوال پر ترجمان نے بتایا کہ افغانستان کے لیے چین کے خصوصی نمائندے نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور اس دوران افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی سفیر محمد صادق سے ملاقات بھی کی۔

افغان ناظم الامور کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں تقریر کے بارے میں طاہر اندرابی نے کہا کہ سفارت کار مختلف مواقع پر جامعات اور تعلیمی اداروں کا دورہ کرتے اور وہاں خطاب کرتے رہتے ہیں، اس لیے اس خطاب کو غیر معمولی معاملہ سمجھنے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے افغان ناظم الامور کے این ڈی یو خطاب کو ’’نان ایشو‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ افغان سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیا پوسٹ کیا ہے۔