اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ، ایف آئی آر کے مطابق جنید اکبر کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی دفعات 9، 10 اور 11 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ، مقدمے میں سوشل میڈیا کے ذریعے مبینہ طور پر دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ایف آئی آر میں جنید اکبر کے مبینہ آفیشل ٹک ٹاک اکاؤنٹ سے مواد شیئر کیے جانے کا حوالہ دیا گیا ہے ، دستاویز کے مطابق مذکورہ اکاؤنٹ کے تقریباً 3 لاکھ 39 ہزار 500 فالوورز ہیں ، مقدمے کے متن میں جنید اکبر کے ایک ویڈیو بیان کا بھی حوالہ شامل کیا گیا ہے، جبکہ NCCIA کا مؤقف ہے کہ مبینہ مواد سے خوف و ہراس، عدم تحفظ اور عوامی بدامنی پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ درج کرنے سے قبل متعلقہ مجاز اتھارٹی سے اجازت حاصل کی گئی، جس کے بعد کیس کی تفتیش سب انسپکٹر سید عاصم علی زیدی کے سپرد کر دی گئی ، مقدمے میں جنید اکبر کی شناخت اور پتے سے متعلق تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں ، ایف آئی آر ریاست کی مدعیت میں NCCIA سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر اسلام آباد میں درج کی گئی۔

