امریکا ایران بالواسطہ مذاکرات، تہران نے آبنائے ہرمز اور فوجی دباؤ سے متعلق شرائط پیش کردیں

نیویارک (ویب ڈیسک): امریکا اور ایران کے درمیان نیویارک میں جاری بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے روز بھی قطر کی ثالثی میں دونوں جانب پیغامات کا تبادلہ ہوا ، ایرانی حکام کے مطابق مذاکراتی رابطہ تقریباً دو گھنٹے جاری رہا، جس دوران تہران نے سفارت کاری کی بحالی سے متعلق اپنی شرائط امریکا تک پہنچائیں۔

ایرانی مؤقف کے مطابق ان شرائط میں آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانا اور امریکی فوجی دباؤ و بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے ، تہران کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی کو بھی سفارتی عمل کی بحالی سے متعلق اہم مطالبات میں شامل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل بھی ایک ایرانی عہدیدار نے کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے فوجی دباؤ میں کمی اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کیے جانے کی صورت میں تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 22 ستمبر کو نیویارک میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے جاری ہیں اور اسی روز بھی مذاکرات ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مؤقف برقرار رکھا۔